14 ستمبر 2013 - 19:30
عراق میں جاری تشدد کے پیچھے سعودی عرب - قطر اور اردن کا ہاتھ ہیں

ایک سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ آیندہ انتخابات منعقد کرانے اور انتظامی امور میں عراقی حکومت کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگانے کی غرض سے سعودی عرب اور بعض علاقائی ممالک دہشت گرد گروہوں کی ملک میں پر تشدد کارروائیوں کے لیے حمایت کر رہے ہیں۔

ابنا: سنیچر کو پریس ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں عراق کے سیاسی تجزیہ نگار سعد المطلب نے ملک میں حالیہ مہینوں دہشت گردانہ حملوں کی لہر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی کچھ سیاسی پارٹیاں ان سازشوں میں ملوث ہیں، ان پارٹیوں کو سعودی عرب، ترکی اور قطر کی حمایت حاصل ہے۔مطلب نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جاری تشدد کے سازشکاروں کا مقصد حکومت کو کمزور کرنا اور موسم بہار میں ہونے والے عام انتخابات ميں شرکت سے عوام کو دور رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ عراقی عوام اس سازش سے آگاہ ہیں اور گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار بھی سعودی سازشوں پر پانی پھر جائے گا۔  اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران عراق میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جن میں صرف اگست میں 800 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔عراق میں موجود القائدہ نے حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، ان حملوں کا بنیادی ہدف شیعہ آبادی، سکیورٹی حکام اور حکومتی تنصیبات رہی ہیں۔حالیہ ہفتوں میں عراقی سکیورٹی حکام نے بغداد کے مضافاتی علاقوں سے مبینہ طور پر سینکڑوں القائدہ کے دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ان گرفتاریوں کی مہم کو حکومت نے ’شہیدوں کا انتقام‘ قرار دیا ہے۔......./169