ابنا: موصولہ اطلاعات کے مطابق عراق کی سیاسی پارٹیوں اور سماجی شخصیتوں نے سعودی بادشاہ کی جانب سے پانچ سو قبائلی عمائدین کو سعودی عرب آنے اور ان سے ملاقات کرنے کی دعوت کو فتنہ انگيزی اور عراق کے داخلی امور میں مداخلت قراردیا۔ عراقی پارلیمنٹ میں دفاعی کمیشن کے سربراہ حسن سنید نے کہا کہ سعودی تفرقہ اندازی کے مقابلے میں عراقی قبائل متحد ہیں۔
ادھر پارلیمنٹ کے ایک اور رکن حبیب طرفی نے کہا کہ علاقے میں بدامنی پھیلانے میں آل سعود نہایت گھناؤنا کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب چاہتا ہےکہ عراق میں جمہوریت کو فروغ حاصل نہ ہو اور عراق کے ماحول کو بھی اپنی ملک کی طرح سے گھٹن کے ماحول میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ عراق کے قبائلی عمائدین نے سعودی بادشاہ کی فتنہ انگيز دعوت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب ، عراق ، شام اور لیبیا کے عوام کے قتل عام میں ملوث ہے اور سعودی بادشاہ کو جان لیناچاہیئے کہ عراقی قبائل زر خرید نہیں ہیں۔.......
/169