13 ستمبر 2013 - 19:30
مشرق وسطی میں ساز باز کےخلاف فلسطینیوں کا احتجاج

غزہ میں فلسطینیوں نے غاصب صہیونی ریاست کی جارحیت کے خلاف اور بیت المقدس کی حمایت میں مظاہرہ کیا۔

ابنا: القدس برگیڈ کے ترجمان ابو احمدنے اس مظاہر ے میں اسلو معاہدے کے بیس سال پورے ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام اس قسم کے مظاہروں میں شرکت کرکے غاصب صہیونیوں سے نمٹنے کے لئے جو بیت المقدس شہراور مسجد الاقصی کے تشخص کو مٹانے کے در پے ہیں ، آمادگی کا اعلان کررہے ہیں۔تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے رہنما محمد الہندی نے بھی جواس مظاہرے میں شریک تھے کہا کہ بیت المقدس کو یہودی علاقہ بنانےکی کوشش کے ساتھ ساتھ ساز باز کے مذاکرات کا عمل بھی ناکام ہو جائے گا۔

تحریک حماس نے بھی ایک  پریس ریلیز میں اسلو معاہدہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انتباہ دیا کہ فلسطینی عوام خود مختار انتظامیہ اور غاصب صہیونی حکومت کے معاہدوں کو تسلیم نہیں کرتے یاد رہے کہ اسلو معاہدہ  ستمبر  انّیس سو ترانوے میں پی ایل او ، اور صہیونی حکومت کے مابین طے پایا تھا۔اسلو معاہدہ طےپانے کے بعدفلسطین کی خود مختار انتظامیہ وجود میں آئی ۔ واضح رہے کہ اسلو معاہدہ  مشرق وسطی میں ساز باز کے عمل کے دائرے میں وجود میں آیا جس کا آغاز 1991میں میڈریڈ سے ہوا تھا۔سازشی معاہدوں کے بارے میں مغربی حکومتوں اور خاص طور سے امریکہ نے وسیع پرو پیگنڈے کئے ان سمجھوتوں اور پروپیگنڈوں کا مقصد بیت المقدس کی غاصب حکومت کا امن پسند چہرہ پیش کرنا اور امن معاہدوں کے انعقاد کے ذریعہ فلسطین کی سرزمین پر غاصب صہیونی حکومت کے غاصبانہ قبضہ جائز اور قانونی بنانا تھا ۔پی، ایل، او  اور غاصب صہیونی حکومت کے مابین نام نہاد امن سمجھوتہ اس طرح منظم ومرتب کیا گیاکہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر رفتہ رفتہ صہیونی حکومت کے غاصبانہ تسلط کی زمین ہموار ہو جائے۔ان سمجھوتوں میں جہاں  غاصب صہیونی حکومت کے لئے بے شمار مراعات مد نظر رکھی گئیں  وہیں کچھ عہد وپیمان غاصب صہیونی حکومت کے لئے بھی قرار دیے گئے لیکن غاصب صہیونی حکومت نے کسی عہدو پیمان کی پابندی نہیں کی مثال کے طور پر فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور صہیونی کالونیوں کی تعمیر بند کئے جانے جیسے مختلف مسائل ہیں، غاصب صہیونی حکومت نے کبھی ان کی رعایت نہیں کی بلکہ نام نہاد امن معاہدہ کے انعقاد کے بعد اس غاصب صہیونی حکومت کی توسیع پسندانہ اور تشدد آمیز پالیسیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ۔فلسطین کی صورت حال نے عملی طور پر مشرق وسطی میں ساز باز کا عمل کالعدم ہونے  اور اس کے صہیونی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے کوآشکار کر دیاہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انّیس سو نوّے کی دہائی میں مغربی حکومتوں کے ذریعہ امن منصوبہ پیش کیے جانے کا ایک اہم مقصد فلسطینی عوام کی تحریک انتفاضہ کو روکنا اور فلسطینی عوام کوانتفاضہ سے منحرف کرنا تھا ۔مغربی حکومتیں ، مشرق وسطی میں نام نہاد امن منصوبہ   کے ذریعہ فلسطینی عوام کی استقامت کے مقابلے میں غاصب صہیونی حکومت کی مسلسل ناکامی کو روکنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کی مکمل طور سے پائمالی کی راہ ہموار کرنے کے درپے تھیں  لیکن فلسطینی عوام کے وسیع پیمانے پر ہونے والے مظاہرے اس امر کے غماز ہیں کہ مغربی ممالک اور غاصب صہیونی حکومت کی پالیسیاں کامیاب نہیں ہوسکیں اور فلسطینی عوام کی انتفاضہ کے مختلف مراحل، ان کے دشمنوں کی سازشوں کو یکے بعد دیگرے  ناکام بنا دیں گے ۔.......

/169