13 ستمبر 2013 - 19:30
صدر مملکت ڈکٹر روحانی کے دورۂ قرقیزستان کا اختتام

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر حسن روحانی نے قرقیزستان میں شانگھائی اجلاس میں اپنی شرکت کومثبت قراردیا اورکہا کہ شانگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک، شام کےمسئلے کوپرامن طریقے سے حل کئے جانے کے خواہاں ہیں۔

ابنا: صدر مملکت ڈاکٹرحسن روحانی نے تہران واپسی پر مہرآباد ایئرپورٹ پر  صحافیوں سےگفتگوکرتے ہوئے کہا کہ شانگھائی تعاون تنظیم کےشرکاء ایران کے ایٹمی معاملے کوسیاسی مذاکرات کےذریعے پرامن طریقے سےحل کرناچاہتے ہيں اورپابندیوں کو ناقابل قبول راہ حل سمجھتے ہیں۔

صدرمملکت نے مزید کہا کہ اس اجلاس میں شام میں ہرطرح کی فوجی مداخلت  کی مذمت کی گئی اور شام کےمسئلے کاواحد راہ حل شامی حکومت اورمخالفین کےدرمیان مذاکرات کوقراردیاگیا۔صدرمملکت نے کہا کہ شانگھائی  تعاون تنظیم کےاجلاس کےموقع پر مختلف ملکوں کےسربراہوں سے ملاقات کےدوران افغانستان، مشرق وسطی اوربین الاقوامی بحرانوں کےبارے میں تبادلہ خیال کیاگیا۔

صدرمملکت نے روس اورچین کے صدور سے ملاقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، مسئلہ شام ، ایٹمی معاملات اور علاقائی اورعالمی مسائل پرگفتگوہوئي۔صدرمملکت نےکہا کہ یہ دونوں ممالک سلامتی کونسل کےمستقل رکن اورگروپ پانچ جمع ایک کےمذاکراتی فریق ہیں اوران سےمذاکرات کےدوران ایٹمی موضوعات بھی زيرغورآئے۔اس سےقبل جمعہ کے دن بیشکک میں شنگھائی تعاون تنظیم کےسربراہی اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے کہا تھا کہ ناوابستہ تحریک کے سبھی 120 رکن ملکوں سمیت اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک ایران پرعائد پابندیوں کو غیر قانونی اور سیاسی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، عالمی امن کے لئے ایٹمی اسلحوں کی تباہی اور عدم پھیلاؤ کو ضروری سمجھتاہے اور غیر قانونی معاہدوں اور اخلاقی و مذہبی پابندیوں کی بنیاد پر جوہری عدم پھیلاؤ کے قوانین کا پابند ہے اور این پی ٹی کے سبھی ارکان کے لئے پر امن جوہری ٹکنالوجی کے حق پر تاکید کرتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اس کے کچھ اتحادی ممالک، ایران پر ایٹمی اسلحے کے حصول کی کوشش کاالزام لگاتے ہيں اورامریکا اور یورپ نے اس بے بنیاد الزام کی بنا پر ایران پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ ایران، این پی ٹی پر دستخط بھی کر چکا ہے اور این پی ٹی کا ایک سرگرم رکن ہونے کی حیثیت سے پرامن ایٹمی سرگرمی کو اپنا قانونی حق سمجھتا ہے جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی اپنے دعوؤں کی تائيد میں آج تک کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کر سکے ہیں۔.......

/169