12 ستمبر 2013 - 19:30
شامی کیمیائی ہتھیاروں پر بین الاقوامی برادری کے کنٹرول سے متعلق مذاکرات

جمعرات کو جنیوا میں روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے کنٹرول میں دینے کے بارے میں جامع مذاکرات کیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان شام کے معاملے پر مذاکرات جعمے کو بھی جاری رہیں گے۔

ابنا: جمعرات کو جنیوا میں روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے کنٹرول میں دینے کے بارے میں جامع مذاکرات کیے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان شام کے معاملے پر مذاکرات جعمے کو بھی جاری رہیں گے۔مذاکرات سے پہلے جان کیری نے دمشق کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے حوالے کرنے کی روسی تجویز پر عمل در آمد ہونے کے متعلق خدشہ کا اظہار کیا تھا۔جمعرات کو جنیوا میں ہونے والی ملاقات سے پہلے روسی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی تھی کہ روسی منصوبے پر عمل درآمد کے بعد امریکہ شام کے خلاف حملے کی دھمکیاں دینا بند کر دے گا۔سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ حل ہونے کے بعد شام کے خلاف امریکہ کی طرف سے فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں رہے گی۔جان کیری نے بھی امید ظاہر کی کہ سفارت کاری سے شام کے خلاف فوجی کارروائی سے بچا جا سکے گا۔سرگئی لاوروف نے روسی منصوبے کے تین اہم نکات بھی بیان کیے ہیں۔شام کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن میں شامل ہو جائے گا جس کے تحت کیمیائی ہتھیاروں کی پیداوار اور ان کا استعمال منع ہے۔شام اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کی جگہ اور اس کے پروگرام کی تفصیلات ظاہر کرے گا۔کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں خصوصی اقدامات کرنے کا فیصلہ ماہرین کریں گے۔سرگئی لاوروف نے کہا کہ’مجھے یقین ہے کہ شام میں امن لانے کا موقع ہمارے پاس ہے جسے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔ اس سے قبل، اقوامِ متحدہ نے شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن میں شامل ہونے کے لیے دستاویزات وصول کرنے کی تصدیق کر دی تھی۔......./169