ابنا: وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے پريس ٹي وي سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو ملک خود کو عالمي قوانين کا پابند کہتا ہے وہ يہ نہيں کہہ سکتا کہ سبھي آپشن ميز پر موجود ہيں ۔ وزير خارجہ جواد ظريف نے کہا کہ شام کا بحران فوجي آپشن سے حل نہيں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ شام پر حملہ پورے مشرق وسطي کے لئے انتہائي خطرناک ثابت ہوگا ۔ايران کے وزير خارجہ نے کہا کہ ہميں اس بات کي اطلاع ملي ہے کہ شام کے اندر کيميائي ہتھيار اسمگل کئےگئے ہيں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امريکا کو خبردار بھي کيا تھا کہ کيميائي ہتھيار دہشت گردوں کے ہاتھوں ميں پہنچ گئے ہيں ليکن امريکي حکام نے اس پر توجہ نہيں دي ۔جواد ظريف نے کہا وقت آگيا ہے کہ اب اس مسئلے پر پوري سنجيدگي کے ساتھ توجہ دي جائے ۔ ايران کے وزير خارجہ نے ايٹمي معاملے کے بارے ميں کہا کہ اس سلسلے ميں مذاکرات محض برائے مذاکرات جاري نہيں رہ سکتے بلکہ بات چيت بامقصد ، معين اوقات کے دائرہ کار ميں اور دو طرفہ احترام کي بنياد پر ہوني چاہئے ۔ايران کے وزير خارجہ جواد ظريف نے زور دے کر کہا کہ کوئي بھي فريق دباؤ ڈال کر مذاکرات کے نتيجے کو اپنے حق ميں نہيں کرسکتا۔ انہوں نے ايک بار پھر کہا کہ ايران کا ايٹمي پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور کوئي بھي ايران کو پرامن ايٹمي ٹکنالوجي سے محروم نہيں کرسکتا اور ايران اپنے حق سے ذرہ برابر بھي پيچھے نہيں ہٹے گا ۔......./169
11 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 462224
اسلامي جمہوريہ ايران کے وزيرخارجہ محمد جواد ظريف نے کہاہے کہ طاقت کے استعمال کي دھمکي کيميائي ہتھياروں کے استعمال کي ہي طرح قابل مذمت ہے ۔