اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ـ دامت برکاتہ ـ نے بدھ 11 ستمبر 2013 کو اس سال کے حج کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے، حج کو اسلامی معاشرے کے سیاسی، ثقافتی اور معنوی عظمت و قوت کا سبب قرار دیا اور غالم اسلام اور خطے کے موجودہ حالات اور بدخواہوں اور دشمنوں کی طرف سے ـ مذہبی اختلاف کے بہانے ـ مسلمانوں کے درمیان تنازعات کھڑے کرنے کی سازشوں، نیز دھونس دھمکیوں اور تسلط پسندوں کی فتنہ انگیزیوں اور اشتعال آفپرینیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ہمیں امید ہے کہ شام کے بارے میں امریکہ کا نیا موقف سنجیدہ اور دھوکے اور فریب سے دور ہو اور حالیہ چند ہفتوں کے غلط اور خودسری پر مبنی موقف سے حقیقی واپسی ہو۔ امام خامنہ ای نے فرمایا: حقیقی حج کے لوازمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس عظیم فریضے کے میدان میں مسلمانوں کے درمیان برادرانہ رواداری کارفرما ہو؛ حج کے ایام میں جدال اور جھگڑے سے دوری قرآن کے مؤکد احکام میں سے ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ دینی برادران اور مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو اور زبانی جدال سے بھی پرہیز کیا جائے اور قلبی منافرت سے بھی اجتناب ہو۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: افسوس کا مقام ہے کہ بعض کج فہم لوگ ایام حج میں عدم جدال کی غلط تفسیر کرکے "مشرکین سے برائت" کے مراسمات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ کفر اور شرک کے ساتھ جدال اسلام کے انتہائی بنیادی احکام میں سے ایک ہے۔ رہبر انقلاب نے مسلمانوں کو بدخواہوں اور دشمنوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنے اور ان کی تحریک پر آپس کے اختلافات اور مذہبی جھگڑوں کے جال میں نہ پھنسنے، کی دعوت دی اور زور دے کر کہا: امت اسلامی کے دشمن بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ اسلامی مذاہب کے درمیان جھگڑا غاصب صہیونی ریاست کے مفاد میں ہیں اور اسی بنا پر انھوں نے تکفیری ٹولوں کی بنیاد رکھی ہے اور دوسری طرف سے انھوں نے اسلام اور حتی کہ شیعیت کے نام پر بعض سیٹلائٹ چینل کھول رکھے ہیں اور ان چینلوں کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہے ہيں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کے لئے کوشاں ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: امام خمینی(رحمۃاللہ علیہ) سمیت شیعہ اکابرین نے اسلامی اتحاد پر تسلسل کے ساتھ زور دیا ہے چنانچہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی غرض سے جس شیعیت کی تبلیغ، لندن اور امریکہ میں متعین سیٹلائٹ چینلوں سے ہورہی ہے، وہ تشیع کے حقیقی راستے سے مطابقت نہیں رکھتی۔ امام خامنہ ای نے حج کے موقع پر مسلمانوں کے درمیان خالص اسلامی ثقافت و تعلیمات کے تبادلے اور اسلامی معاشروں کے حقائق اور ترقی و پیشرفت سے آگہی کو حج ایک اور نقطۂ قوت قرار دیا جو اسلام کو زیاد قوی اور مقتدر بناتا ہے، اور فرمایا: اسلامی نظام کے دشمن اور معاند ذرائع ابلاغ کی بہت عظیم اور وسیع و ناقابل تصور تشہیری مہم کے پیش نظر، ایرانی اور [اور ان کے ہم فکر] حجاج کرام کا ایک اہم فریضہ یہ ہے کہ اسلام اور تشیع کا حقیقی چہرہ دوسرے ممالک کے حجاج و زائرین کے سامنے پیش کریں اور اور زبان و عمل سے اسلامی نظام کے حقائق اور ترقی و پیشرفت سے انہیں آگاہ کریں۔ آپ نے فرمایا: حج کے نقاطِ قوت میں سے ایک یہ ہے کہ معنویت کو تقویت دی جائے؛ قوی ایمان، خدا پر توکل اور اللہ کے وعدوں کی نسبت حسن ظن ـ جس کا لازمہ دشوار گذرگاہوں سے گذرنے اور طاقتوں کے ظاہری رعب و ہیبت سے خوفزدہ نہ ہونا، ہے ـ حج کے دوران حاصل ہوتا ہے۔ رہبر انقلاب نے پاکستان، افغانستان، عراق، شام اور بحرین میں دشمنان امت کی جنگ افروزیوں اور سینکڑوں بےگناہ مسلمانوں کے قتل عام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تسلط پسند اور بڑی قوتیں ـ بالخصوص امریکہ ـ اپنے ناجائز مفادات کے حصول کے لئے ملکوں کو تباہ و برباد کرنے اور اور انسانوں کا قتل عام کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا کرتیں۔ امام خامنہ ای نے شام کی صورت حال اور حالیہ چند ہفتوں کے دوران علاقے میں جنگ کی آگ بھڑکانے کے لئے امریکی دھونس دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وہ اپنے مبینہ قومی مفادات کی خاطر ـ جو در حقیقت صہیونیوں اور بڑے سرمایہ داروں کے مفادات ہیں ـ جنگ افروزی کرنے (جنگ بھڑکانے) اور ممالک و اقوام کے مفادات کو پامال کرنے، کے لئے بھی تیار ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہمیں امید ہے کہ امریکہ کا نیا موقف سنجدہ اور سیاسی کھیل سے دور ہو اور اگر ایسا ہو تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ امریکہ حالیہ چند ہفتوں کے دوران اپنے غلط اور خودسری پر مبنی موقف سے پسپا ہوچکا ہے۔ رہبر انقلاب نے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران پورے غور اور ہوشیاری کے ساتھ خطے کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔۔۔ ہمیں اس حساس خطے میں ایک بڑی قوم کے عنوان سے، صحیح نگاہ کی روشنی میں اسلامی قوت سے استفادہ کرکے اپنے اعلی اور انسانی اہداف کو ـ جو کہ اسلام پر مبنی ہیں ـ سب کی نظروں کے سامنے رکھنا چاہئے، اور بنی نوعی انسانی کو اسلام کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے فوائد اور حصول یابیوں کی طرف دعوت دینا چاہئے۔۔۔ اسلام کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے فوائد اور حصولیابیاں ایک قوم کی اندرونی قوت اور طاقت کی تعمیر، جو ایمان راسخ، معاشرے کے تمام افراد کے باہمی اتحاد، حکام کی صحیح کارکردگی، عوام اور حکام کی ہمدلی اور ہمآہنگی اور اللہ پر توکل کی برکت سے حاصل ہوتی ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے عقل، معنویت، توکل، حرکت اور عمل کو اندرونی طاقت کی تعمیر کے پانچ عناصر قرار دیا اور فرمایا: اس راستے پر اسلامی نظام کی پیشقدمی اور اس کی بڑھتی ہوئی قوت، قطعی طور پر علاقے کے حالات پر اثر انداز ہوگی جیسا کہ آج تک ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
شام کے بارے میں نئےامریکی موقف پررہبر انقلاب کاردعمل؛
امید کہ امریکی موقف فریب نہ ہو/ مغرب سے شیعہ کےعنوان سے ہونےوالی تبلیغ، تشیع سے متصادم
10 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461910
امام خامنہ ای نے شام کی صورت حال اور علاقے میں جنگ کی آگ بھڑکانے کے لئے حالیہ امریکی دھونس دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وہ اپنے مبینہ قومی مفادات ـ جو در حقیقت صہیونیوں اور بڑے سرمایہ داروں کے مفادات ہیں ـ کی خاطر حتی جنگ افروزی (جنگ بھڑکانے) اور ممالک و اقوام کے مفادات کو پامال کرنے کے لئے بھی تیار ہیں/ لندن اور امریکہ سے تشیع کے نام پر ہونے والی تبلیغ شیعہ تعلیمات پر استوار نہیں ہے۔