10 ستمبر 2013 - 19:30
شام کو فوجی کارروائی کے لیے دھمکانے سے امریکہ نے کھینچا پیچھے قدم

امریکی صدر براک اوباما نے روس کی جانب سے پیش کی گئی ایک سفارتی تجویز پر عمل در آمد کا موقع دینے کے لئے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے اختیار پر کانگریس سے فیصلے میں تاخیر کے ليے کہا ہے۔

ابنا: اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ، شام کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کے لیے روس کے ساتھ کام کرے گا لیکن سفارتکاری کی ناکامی کی صورت میں وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی کو قائم رکھے گا۔براک اوباما نے منگل کو ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکی قوم جنگوں سے تنگ آ چکی ہے۔براک اوباما نے کہا کہ انھوں نے شامی ہتھیاروں کو بین اولاقوامی کنٹرول میں دینے اور انہیں تباہ کرنے کی روسی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ تجویز کامیاب ہوگی یا نہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی قسم کے سمجھوتے میں اس بات کی تصدیق کرنا ضروری ہے کہ بشارالاسد اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے، اس تجویز سے یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ طاقت کے استعمال کے بغیر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ ٹل جائے۔خیال رہے کہ امریکہ کا دعوی ہے کہ شامی حکومت نے 21 اگست کو اپنے عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، تاہم دمشق نے ان الزامات کو شدت سے رد کر دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکہ، سعودی عرب، قطر، ترکی، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں نے کیا ہے۔براک اوباما نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ وزیرِخارجہ جان کیری کو جمعرات کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے شام کے مسئلے پر بات چیت کے لیے بھیج رہے ہیں۔امریکی کانگریس میں اس ہفتے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے قرار داد پر ووٹنگ ہونی تھی لیکن روسی تجویز کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔شام نے روسی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے روس کے دورے کے دوران کہا تھا کہ شام کو کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی تحویل میں دینے کی روسی تجویز منظور ہے۔روس کے خبر رساں ادارے انٹر فیکس کے مطابق شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے منگل کو کہا کہ دمشق کیمیائی ہتھیاروں کے بین الاقوامی کنونشن میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔...../169