ابنا: انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو کچھ ٹھوس ثبوت پیش کئے گئے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ اکیس اگست کو دمشق کے مضافات میں ہوئے کیمیائی حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کے فوٹو اور ویڈیو پہلے سے تیار کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فوٹو اور ویڈیوز جعلی ہونے کے ثبوت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس میں منظر عام پر لایا گیا ۔ اس اجلاس میں بین الاقوامی ماہرین، شامی سماجی کارکن اور مذہبی پیشوا شریک تھے۔روس کی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں عینی شاہدین کی گواہی پیش کی گئی جن کا کہنا تھا کہ دمشق کے مضافات میں ہوئے کیمیائی حملے میں باغیوں کا ہاتھ ہے۔ آزاد ماہرین کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے نتائج اور عینی شاہدین کی گواہی شام سے متعلق تحقیقاتی کمشین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے تصدیق کی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر شام کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال بین الاقوامی قوانین کی سخت خلاف ورزی ہوگی۔......./169
10 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461869
روس کی وزرات خارجہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے متعلق جاری فوٹو اور ویڈیو کلپ جعلی ہے۔