ابنا: صدر جناب حسن روحانی نے ائمہ جمعہ کی بائيسویں قومی کانفرنس میں کہا کہ ایران، شام کے خلاف امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی ممکنہ جنگ کے بارے میں مختلف ملکوں کے سربراہوں کے ساتھ صلاح و مشورے کررہا ہے اور ایران کی حکومت نے گذشتہ دو ہفتوں سے اپنی تمام تر توانائيوں کو بروے کار لاکر شام کےخلاف ہرطرح کی ممکنہ جنگ کی روک تھام کی کوششیں ہیں۔
صدر جناب حسن روحانی نے کہا کہ شام چونکہ صیہونی حکومت کے خلاف جاری مزاحمت کی فرنٹ لائين میں ہے لہذا اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا اگر شام کے خلاف جنگ ہوئي تو جنگ پسندوں کواس کےخطرناک نتائج جھیلنے کے لئے بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گي۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایران کی جانب سے شام کے لئے انسان دوستانہ امداد بالخصوص غذائي اشیاء کی ترسیل جاری رہے گي۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک اسلامی ملک، بحران کا شکار ہو اور اپنے عوام کی غذائي ضرورتیں پوری کرنے سے عاجر ہوتو اسکی مدد کو پہنچنا چاہیئے۔
صدرجناب حسن روحانی نے کہا کہ عالمی رائے عامہ کی جانب سے جنگ کی مخالفت اور امریکہ کے سب سے بڑے اتحادی برطانیہ کی پارلیمنٹ کا شام کے خلاف امریکہ کے حملوں میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ برطانیہ کو عراق و افغانستان کی جنگوں کی مصیبتیں ابھی تک یاد ہیں۔ صدر مملکت نے ایٹمی حقوق کےبارے میں کہا کہ ان کی حکومت، عوام کے حقوق سے ذرہ برابر پسپائي اختیار نہیں کرے گي اور دانشمندی، استدلال، سربلندی اور اقتدار سے ایٹمی مذاکرات کو آگے بڑھانے نیز اس مسئلے کو حل کرنےکے لئے آمادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ملکوں کو ملت ایران کے ساتھ منطق و تکریم کی پالیسی اپنانی چاہیئے اور انہیں جان لینا چاہیئے کہ وہ پابندیوں اور دباؤ سے اس قوم کے خلاف کامیاب نہیں ہوسکیں گے جو ادب اور استقامت کی حامل ہے۔
.......
/169