ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جناب محمد جواد ظريف نے کہا ہے کہ شام کے بارے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کچھ پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے لیکن براہ راست مذاکرات کا کوئی پروگرام نہیں۔ انھوں نے کل نامہ نگاروں سے ایک گفتگو میں کہا کہ عراق کے دورے میں عراقی حکام کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے خیالات پر بحث ہوئی اور ان کا بھی یہی خیال تھا کہ علاقے میں حالیہ جنگ سے علاقائی استحکام اور امن کے لئے سنگین خطرے پیدا ہو جائیں گے۔ایران کے وزیر خارجہ نے اسی طرح نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ سے ملاقات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے وزیر خارجہ نے کھلے اور ڈھکے چھپے طور پر، ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے اور ایران کے نقطہ نظر سے اس ملاقات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ برطانیہ نے خود ہی تعلقات منقطع کئے ہیں کہا کہ اگر باہمی احترام و تعاون کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کے لئے سیاسی عزم نظر آئے گا اور برطانیہ، ایران کے ساتھ نئے تعلقات قائم کرنے پر تیار ہو جائےگا تو ملک کے قانون اور پارلیمنٹ کے دائرے میں لندن کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جناب محمد جواد ظریف نے زور دیا کہ اگر مغرب، گزشتہ دس سال کے دوران اپنی کارکردگي پر نظر ڈالے تو اس کی سمجھ میں آ جائے گا کہ اسے ہر میدان میں ناکامی ہی ملی ہے اس لئے اب ضروری ہے کہ وہ شکست کے اس سلسلے کو ختم کرکے، نیا عمل شروع کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
9 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461469
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جناب محمد جواد ظريف نے کہا ہے کہ شام کے بارے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کچھ پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے لیکن براہ راست مذاکرات کا کوئی پروگرام نہیں۔