ابنا: انھوں نے تہران میں جاپان کے وزیر اعظم کے خصوصی ایلچی ماساہیکو کومورا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے شام میں بحران کے آغاز سے ہی اعلان کیا ہے کہ اس ملک کا مسئلہ صرف مذاکرات سے حل کیا جارسکتا ہے اور مختلف علقائی و بیرونی ملکوں سے ہتھیاروں اور دہشتگردوں کی ترسیل سے جمہوریت کو ہرگز مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔
ڈاکٹر علی لاریجانی نے ایران کے پرامن جوہری مسئلے کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ مغربی ممالک کو برسوں کے بعد کم از کم اب یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ تہران پوری عالمی برادری پر اپنے پرامن جوہری پروگرام کی شفّافیت و صداقت ثابت کرچکا ہے اور اب مغرب کی باری ہے کہ وہ اپنی صداقت کا مظاہرہ کرے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایرانی قوم کو دھونس دھمکیوں سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔
اس ملاقات میں جاپان کے وزیر اعظم کے خصوصی ایلچی ماساہیکو کومورا نے بھی ایران کو علاقے کا ایک اہم ملک قرار دیتے ہوئے تہران اور ٹوکیو کے دیرینہ تعلقات کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ان کے ملک کے وزیر اعظم نے ایران کے ساتھ جاپان کے دو طرفہ تعلقات کے فروغ کی ضرورت پر بہت زیادہ تاکید کی ہے۔
.......
/169