ابنا: ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر مظفر نگر میں فوج کی تعیناتی کے باوجود حالات قابو میں نہیں آرہے ہیں اور اب حکومت نے شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ تیرہ دن قبل كوال گاؤں سے شروع ہون والے تشدد پر ابتک قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔مظفرنگر ضلع میں سنیچر سے جاری تشدد میں اب تک 30 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پولیس نے 52 افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔ مظفرنگر کے ڈی ایم مہارت راج شرما کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ بہت سے افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ریاست اترپردیش کے داخلہ سکریٹری کمل سکسینہ نے کہا ہے کہ فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ شہر میں تو نسبتا امن بتایا جارہا ہے تاہم گاؤں اور دیہی علاقوں میں تشدد کا دور اب بھی جاری ہے۔ فوج نے تشدد سے متاثرہ کئی علاقوں پر فلیگ مارچ بھی کیا۔ اس دوران کچھ علاقوں میں فوج پر بھی فائرنگ کی گئی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے مظفرنگر کے تمام اسکول، کالج اور تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔ریاست اتر پردیش کے کئی اور شہروں منجملہ میرٹھ، مراد آباد، آگرہ اور اسی طرح دہرادون ، ہردوار وغیرہ کے حالات بھی کشیدہ ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
8 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461077
ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر مظفر نگر میں فوج کی تعیناتی کے باوجود حالات قابو میں نہیں آرہے ہیں اور اب حکومت نے شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم جاری کردیا ہے۔