6 ستمبر 2013 - 19:30
عشرہ کرامت کی مناسبت سے اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کا بیان

عشرہ کرامت اہلبیت اطہار(ع) کی تعلیمات مخصوصا فاطمی اور رضوی ثقافت کی نشر و اشاعت کے لیے بہترین موقع ہے تاکہ ہمارے جوان قرآنی تعلیمات کے بہتے ہوئے دریا میں غوطہ ور ہو کرامام ہشتم علی بن موسی الرضا علیہ السلام اور کریمہ اہلبیت حضرت فاطمہ معصومہ(ع) کی نسبت مزید آشنائی حاصل کر سکیں۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی نے حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی ولادت با سعادت اور عشرہ کرامت کے آغاز کی مناسبت سے ایک بیان جاری کر کے اس پرمسرت موقع کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ امام رضا علیہ السلام اور آپ کی بہن حضرت معصومہ(س) کی کاوشوں کا اہم مقصد انسان سازی، بامعرفت انسانوں کی تربیت اور مطلوبہ معاشرے کی تشکیل کے لیے زمینہ فراہم کرنا تھا۔اس بیان میں آیا ہے کہ عشرہ کرامت اہلبیت اطہار(ع) کی تعلیمات مخصوصا فاطمی اور رضوی ثقافت کی نشر و اشاعت کے لیے بہترین موقع ہے تاکہ ہماری جوان نسل قرآنی تعلیمات کے بہتے ہوئے دریا میں غوطہ ور ہو کرامام ہشتم علی بن موسی الرضا علیہ السلام اور کریمہ اہلبیت حضرت فاطمہ معصومہ(ع) کی نسبت مزید آشنائی حاصل کر سکیں۔اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے بیان کا ترجمہ حسب ذیل ہے:بسم اللہ الرحیم الرحیماس میں کوئی شک نہیں کہ ماہ ذی القعدہ کا پہلا عشرہ جسے ’’عشرہ کرامت‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے عظیم برکتوں اور فضیلتوں کا عشرہ ہے، اس مہینے کی پہلی تاریخ کو ولادت حضرت فاطمہ معصومہ(ع) ہے، چھٹی تاریخ ولادت حضرت احمد بن موسی شاہچراغ (ع) اور گیارہویں تاریخ ولادت با سعادت ثامن الحجج حضرت علی بن موسی الرضا سلام اللہ علیہ ہے اسی وجہ سے یہ دس دن اہلبیت(ع) کے شیدائیوں اور پیروکاروں کے لیے انتہائی خوشی اور مسرت کے ایام ہیں۔ عشرہ کرامت اپنے کردار کو سنوارنے اور سماج میں سدھار لانے نیز اسے سیرت اہلبیت(ع) کے ساتھ جوڑنے کے لیے ایک اہم فرصت ہے۔معمولی غور و تدبر اس حقیقت کو واضح کر دیتا ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام اور آپ کی بہن فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی کاوشوں کا اہم مقصد انسان سازی، بامعرفت انسانوں کی تربیت اور مطلوبہ معاشرے کی تشکیل کے لیے زمینہ فراہم کرنا تھا۔ ایسا معاشرہ جس کے اہداف، فضائل اور کمالات ہوں اور انسان اس میں ایک خاص احترام، کرامت اور مقام و منزلت کا مالک ہو۔ ایسے سماج میں رجحانات، الہی رنگ و بو اختیار کرتے ہیں اور معیار اور ملاک الہی تفکر کے ماتحت انجام پاتے ہیں۔امام رضا علیہ السلام اور حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی عملی سیرت میں تھوڑا غور و فکر کرنے سے بخوبی نمایاں ہو جاتا ہے کہ ان ہستیوں نے دقیق نگاہ اور تدبیرانہ انداز سے انسانی تربیت، سماجی اصلاح اور معاشرتی فلاح و بھبود کے میدانوں میں اہم کردار ادا کیا۔ ان بزرگ ہستیوں کی سیرت میں یہ نکتہ بھی واضح نظر آتا ہے کہ انہوں نے افراد اور معاشرے کی اصلاح کے لیے چہرہ بہ چہرہ (فیس ٹو فیس) تبلیغ کی اور انسان سازی کے لیے مواقع فراہم کئے۔ ان کی زحمتوں اور کوششوں کا مقصد یہ تھا کہ انسانی معاشرہ الہی رنگ و بو اختیار کرے۔ دوسرے الفاظ میں امام رضا (ع) اور حضرت معصومہ (س) کا افق دید پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت طیبہ کے مطابق معاشرے کی اصلاح کرنا اور سماج کی رہنمائی کرنا تھا۔ انہوں نے معاشرے کے ایک ایک شخص کی اصلاح کے ساتھ صحیح اور سالم سماج تشکیل دینے کی کوشش کی۔امام رضا علیہ السلام اور حضرت معصومہ (ع) کی رفتار و گفتار سے آگاہی ہم سب کی ذمہ داریوں کو دو چنداں کر دیتی ہے جو انسانی تربیت اور اسلامی ثقافت کی ترویج کا بھیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ عشرہ، تعلیمات اہلبیت(ع) مخصوصا فاطمی اور رضوی ثقافت کی نشر و اشاعت کے لیے بہترین موقع ہے تاکہ ہمارے جوان قرآنی تعلیمات کے بہتے دریا میں غوطہ ور ہو کر تعلیمات اہلبیت(ع) مخصوصا امام ہشتم حضرت علی بن موسی الرضا(ع) اور کریمہ اہلبیت حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے بلند معارف سے آشنا ہو سکیں۔عشرہ کرامت کی تعظیم اور تکریم سے عالمی اداروں اور دینی تنظیموں کے لیے مناسب شرائط فراہم ہوں گے کہ وہ جوانوں کے اسلامی عقائد کو مستحکم اور مذہبی اعتقادات کو پختہ بنانے کے لیے مختلف پروگرام منعقد کرسکیں۔ عشرہ کرامت میں اہلبیت(ع) کے تمام چاہنے والوں اور شیدائیوں کو ان ایام سعید کے حوالے سے محافل جشن و سرور منعقد کرنے کی زیادہ سے زیادہ تلاش و کوشش کرنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ اہلبیت عصمت و طہارت(ع) کی نسبت اپنی خوشی اور شادمانی کا اظہار کرنا چاہیے۔اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی عشرہ کرامت کی مناسبت سے اپنے تمام اراکین کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتے ہوئے دینی مبلغین سے متقاضی ہے کہ حضرت ثامن الحجج، عالم آل محمد(ص)، حضرت علی بن موسی الرضا علیہ آلاف التحیۃ و الثناء، آپ کی عظیم الشان بہن حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا اور آپ کے عظیم المرتبت بھائی احمد بن موسی الکاظم شاہ چراغ (ع) کے ایام ولادت با سعادت میں محافل، تقاریر اور علمی کانفرنسوں کے انعقاد، مضامین اور مقالات تحریر کرنے نیز دیگر ذرائع ابلاغ کے استعمال کے ساتھ معارف رضوی و فاطمی کی نشر و اشاعت کریں اور عشرہ کرامت کی تعظیم کریں۔..............242