ابنا: سینٹ پیٹرز برگ میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں کے گروپ کے دو روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پرروس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ اجلاس میں شرکت کرنے والے عالمی رہنماؤں کی ایک بڑی اکثریت شام کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائی کی مخالف ہے۔" میں آپ پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ کون سے ممالک فوجی کارروائی کے حق میں ہیں۔ امریکہ، ترکی، سعودی عرب، کینیڈا اور فرانس، جبکہ برطانیہ کے وزیر اعظم کی جانب سے امریکہ کی حمایت کی ان کے شہریوں نے تائید نہیں کی۔ تاہم، مخالفین میں روس، چین، ہندوستان، انڈونیشیا، ارجنٹائن، برازیل، جنوبی افریقہ اور اٹلی ہیں."اس سے قبل اجلاس کے دوران امریکی صدر براک اوباما سے ایک غیر متوقع ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں صدر پوتن نے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شام پر حملے کے پورے مشرق وسطیٰ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔صدر پوتن نے وضاحت کی کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال شدت پسندوں کی طرف سے ایک ایسی حرکت تھی جس پر وہ بیرونی حمایت حاصل کرنا چاہتے تھے۔پوتن نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر شام پر حملہ کیا جاتا ہے تو ماسکو اس کی مدد کرے گا۔ولادیمیر پوتن کا کہنا تھا کہ "کیا ہم شام کی مدد کریں گے؟ ہم مدد کريں گے۔ ہم ابھی بھی مدد کر رہے ہیں، ہم اسلحہ بھیج رہے ہیں اور معیشت میں تعاون کر رہے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر اوباما نے فوجی کارروائی کے منصوبے پر عمل نہ کرنے کے عالمی دباؤ کو کم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے دعوی کیا کہ جی ٹوئنٹی کے ملکوں کے رہنماوں میں اس بات پر اتفاق تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر سخت رد عمل ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اختلاف اس بات پر تھا کہ اس پر کیا رد عمل اختیار کیا جائے۔...../169
6 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 460285
روس میں جی ٹوئنٹی کا سربراہی اجلاس ایسی صورت میں اختتام پذیر ہوا ہے کہ جب شام پر امریکہ کے احتمالی حملے کے متعلق جی ٹوئنٹی ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔