ابنا: وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ رہا ہونے والے قیدیوں میں منصور داداللہ، سعید ولی، عبدالمنان، کریم آغا، گل محمد اور محمد زئی شامل ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ برس بھی 27 طالبان قیدی رہا کئے گئے تھے۔دوسری جانب، پاکستانی حکام نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں حقانی نیٹ ورک کے اہم کمانڈر ملا سنگین ذدران کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔متعدد مقامی ذرائع اور حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاک افغان سرحد کے قریب واقع درگو منڈی میں ہونے والے حملے میں ملا سنگین اپنے پانچ ساتھیوں سمیت مارے گئے ہیں۔ تاہم حقانی نیٹ ورک نے ابھی تک ملا سنگین کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے امریکی ڈرون حملے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں نے دو ملکوں کے درمیان تعلقات کی خطرناک مثالیں قائم کر دی ہیں اور حملوں سے خطے میں امن و استحکام کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔پاکستانی طالبان سے بات چیت کرنے کی حمایتی اور حکومت کو مذاکرات میں تعاون کی پیشکش کرنے والی جماعت جمعیت علماءاسلام ف کے ترجمان جان اچکزئی نے امریکی ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے جب طالبان سے بات چیت شروع کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں تو اس وقت تحریک طالبان کے نائب امیر مولوی ولی الرحمان کی ہلاکت سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا تھا اور اس وقت ڈرون حملے ایک بار پھر بات چیت کو ناکام کرنے کی کوشش ہو سکتے ہیں۔......./169
6 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 460278
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں مفاہمت کے عمل کو تقویت دینے کی غرض سے مزید سات طالبان قیدیوں کو رہا کرے گا۔