اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای ـ دامت برکاتہ ـ نے کل جمعرات (5ستمبر 2013) کو مجلس خبرگان کے چوتھے دور سربراہ آیت اللہ محمد رضا مہدوی کنی اور اراکین مجلس سے ملاقات کے دوران خطاب کرتے ہوئے ذمہ دار حکام کو اندرونی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بصیرت پر مبنی موقف اپنانے اور تسلیم و انفعال سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: سب کو اپنے فیصلوں اور موقف میں تین بنیادی اصولوں کا لحاظ رکھنا چاہئے: ایک۔ انقلاب اسلامی کا بنیادی مشن اور اہداف، دو۔ عمومی اور و تزویری پالیسیاں اور موجودہ حقائق۔ سب کو ان تین اصولوں کی بنیاد پر عاقلانہ اور دانشمندانہ انداز سے اور مستقبل سے پرامید ہوکر نظام کی اندرونی ساخت کو تقویت پہنچانی چاہئے اور مشکلات کو حل کرنا چاہئے اور اصولوں پر ڈٹ کر رہنا چاہئے۔ ٭ امام خامنہ ای نے ایک جامع اور کلی و ہمہ جہت نگاہ سے تمام واقعات و مسائل کو مدنظر رکھنے کو ضروری سمجھتے ہوئے فرمایا: ایک واقعہ اسلامی جمہوری نظام کا قیام ہے جو شدید ترین آندھیوں کے دوران اسلام کے سہارے ایسی دنیا میں رونما ہوا جو مادیت کی طرف جارہی تھی، اور یہ واقعہ ایک معجزے سے شباہت رکھتا تھا۔ ٭ رہبر انقلاب نے ابتدا سے لے کر آج تک اسلامی نظام کے ساتھ دشمنیوں اور مخالفتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ان دشمنیوں کی وجہ صرف اور صرف اسلام ہے۔ ٭ آپ نے موجودہ علاقائی اور عالمی حالات اور اسلامی انقلاب کے سامنے ہونے والی صف بندیوں کے صحیح تجزیئے کو بھی حقائق پر ہم جہت اور حقیقت پسندانہ نگاہ، کا لازمہ قرار دیا اور فرمایا: اس کے باوجود کہ مغربی ایشیا کا علاقہ برسوں سے استکبار کے تسلط اور حملوں اور جولانیوں کا نشانہ رہا ہے لیکن ان ہی حالات میں اسلامی بیداری کا عالمی واقعہ رونما ہوا جو استکبار کی خواہشات کے برعکس ہے۔ ٭ یہ تصور ـ اسلامی بیداری اختتام پذیر ہوئی ہے ـ ایک غلط تصور ہے کیونکہ اسلامی بیداری ایک محض سیاسی واقعہ نہ تھی جو بعض افراد کے آنے اور جانے سے، نابود ہوجائے بلکہ اسلامی بیداری تنبہ اور ہوشیار ہونے اور خود اعتمادی اور اسلام کا سہارا لینے کا نام ہے جو اسلامی معاشروں میں فروغ پاچکی ہے۔ ٭ جو کچھ آج ہم علاقے میں دیکھ رہے ہیں در حقیقت اسلامی بیداری کے مقابلے میں امریکی سرکردگی میں عالمی استکبار کا رد عمل ہے۔ ٭ استکباری محاذ علاقے کے مسائل کو اپنے مفادات کی بنیاد پر حل کرنے کے درپے ہے؛ اس علاقے میں اسکتبار کی موجودگی جارحانہ، متجاوزانہ، جابرانہ، زيادت طلبی پر مبنی اور اس موجودگی کے مقابلے میں ہر قسم کی علاقائی مزاحمت کے خاتمے کے لئے ہے لیکن استکباری محاذ مزاحمت کا خاتمہ نہیں کرسکا ہے اور اس کے بعد بھی ایسا نہیں کرسکے گا۔ ٭ عالمی استکبار کا مقصد یہ ہے کہ صہیونی ریاست کی مرکزیت کی بنیاد پر علاقے پر مسلط ہوجائے؛ اور شام کے موجودہ مسائل ـ جن کا آغاز کیمیاوی ہتھیاروں کے بہانے ہوا ہے ـ میں بھی مقصد یہی ہے لیکن امریکی لفاظی اور زبان بازی کا سہارا لے کر یوں جتا رہے ہیں کہ گویا وہ ایک انسانی مقصد کے لئے اس مسئلے میں داخل ہوئے ہیں! ٭ جو مسائل امریکی سیاستدانوں کے لئے ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں رکھتے، وہ انسانی مسائل ہی ہیں؛ امریکی ایسے حال میں انسانی مسائل کا دعوی کررہے ہیں کہ ان کے پس منظر میں گوانتانامو اور ابوغریب کے عقوبت خانے دکھائی دے رہے ہیں، وہ حلبچہ اور ایرانی شہروں میں صدام کے توسط سے کیمیاوی ہتھیاروں کے وسیع استعمال پر خاموش رہے ہیں اور افغانستان اور پاکستان میں بےگناہ انسانوں کے قتل عام میں ملوث ہیں۔ ٭ انسانی مسئلہ وہ موضوع نہیں ہے کہ دنیا میں کوئی باور کرے کہ امریکی اس کے درپے ہیں۔ ٭ ہمیں یقین ہے کہ امریکہ شام میں غلطی کے مرتکب ہورہے ہیں اور اسی بنا پر وہ اپنے پیکر پر پڑنے والی ضرب کی شدت کو ضرور محسوس کریں اور قطعی طور پر نقصان اٹھائیں گے۔ رہبر انقلاب نے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران آج تیس سالہ دشمنیوں، سازشوں اور علاقے کے موجودہ حالات کے باوجود نہ صرف کمزور نہيں ہوا ہے بلکہ طاقت، ترقی اور نفوذ و صلاحیتوں کے لحاظ سے بہت زیادہ طاقتور ہوگیا ہے۔ ٭ رہبر انقلاب نے اسلامی جمہوری نظام کی تشکیل کے حقائق اور تمامتر علاقائی اور عالمی دشمنیوں اور صف آرائیوں کے باوجود اس نظام کی بڑھتی ہوئی طاقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ذمہ دار افراد کو اپنے موقف اور فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے تین اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے: 1۔ اسلامی انقلاب کے مطلوبہ مقاصد و اہداف 2۔ عمومی اور کلی تزویری اصول اور پالیسیاں اور 3۔ حقائق۔ ٭ رہبر انقلاب نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مطلوبہ اہداف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کا مطلوبہ ہدف "اسلامی تہذیب" اور "مادی و معنوی لحاظ سے ترقی یافتہ معاشرے" کی تشکیل ہے اور ان مطلوبہ اہداف تک پہنچنے کے لئے حکمت عملی بھی واضح ہے، اسلامیت پر کا سہارا لینا، ظالم کو رعایت نہ دینا اور مختلف تعاملات ـ اور بین الاقوامی سیاسی لین دین ـ میں مظلوم واقع نہ ہونا، عوامی رائے کا سہارا لینے کی حکمت عملی، عمومی محنت و کوشش کی حکمت عملی اور قومی وحدت و یکجہتی کی حکمت عملی۔ ٭ انھوں نے تیسرے اصول کے عنوان سے "حقائق کے صحیح تجزیئے" کو ضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا: مطلوبہ اہداف کے حصول کی کوشش حقیقت پسندی پر مبنی ہونی چاہئے لیکن حقائق پر نظر صحیح اور ہمہ جہت اور یکطرفہ تصورات و اقدامات سے دور ہونی چاہئے۔ ٭ رہبر انقلاب اسلامی نے معاشرے کے تلخ اور شیریں حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: فیصلہ سازیوں اور ملکی مسائل کی طرف توجہ دینے کے وقت صرف تلخ مسائل کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ ـ معاشرے میں نمایاں افکار اور فعال و تخلیقی ذہنوں کے مالک افراد کی موجودگی، معاشرے ـ بالخصوص نوجوانوں ـ میں دین کا فروغ، معاشرے میں دینی اور اسلامی نعروں کی بقاء اور علاقے اور دنیا میں اسلامی جمہوری نظام کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو بھی دیکھنا چاہئے اور ان شیریں حقائق کے سہارے تلخ حقائق کے مٹانے اور یا کم کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ ٭ ہمارے سامنے رکاوٹ کی طرح آکھڑے ہونے والے بعض تلخ حقائق کو، آگے کی طرف ہماری پیشقدمی کے سامنے مانع نہیں بننا چاہئے بلکہ ایک صحیح تدبیر و نگاہ سے ان رکاوٹوں کو سامنے سے ہٹا دینا چاہئے اور ان سے گذرنا چاہئے۔ ٭ انقلاب کے پہلے عشرے میں امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) کی روش بھی یہی رہی؛ امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) نے حقائق سے کبھی چشم پوشی نہیں کی لیکن اصولوں سے بھی کبھی روگردانی نہیں کی۔ رہبر انقلاب نے فرمایا: امام خمینی(رح) وہی ہیں جنہوں نے فرمایا: "صہیونی ریاست ایک سرطانی پھوڑا ہے جس کو ختم ہونا چاہئے" اور کبھی بھی انھوں نے صہیونی ریاست کے حوالے سے موقف کا اظہار کرتے ہوئے تقیہ کا راستہ نہیں اپنایا۔ ٭۔ امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) نے امریکہ اور اس کی شرانگیزیوں کے سامنے بھی تقیہ اختیار نہیں کیا اور مشہوری جملہ "امریکہ شیطان بزرگ ہے" امام(رح) کا ہی کلام ہے۔ ٭ یہ عبارت کہ "امریکی جاسوسی کے گھونسلے (سفارتخانے) پر طلبہ کا قبضہ ، دوسرا انقلاب یا شاید پہلے انقلاب سے زیادہ اہم ہے"، بھی امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) کا جملہ ہے۔ ٭ رہبر انقلاب نے انقلاب اسلامی کے پہلے عشرے میں امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) کے کردار اور کارکردگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرمایا: اسی زمانے میں جب "جنگ، جنگ تا کامیابی" کا نعرہ لگا رہے تھے تو امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) نے فرمایا: "جنگ جنگ [عالم سے] فتنے کے خاتمے تک"۔ ٭ یہ امام بزرگوار (رحمۃاللہ علیہ) کی استقامت ہی تھی جس نے اسلامی نظام کی بنیادوں کو استوار اور مستحکم کیا۔ ٭ ان افراد اور ممالک کی صورت حال آج ہمارے سامنے ہے جو مستکبرین کا دل جیتنے کے لئے اپنے اصولوں سے گذر گئے۔مصر میں انقلاب کا افسوسناک انجام٭ رہبر انقلاب نے فرمایا: اگر مصر میں اسرائیل کے خلاف جدوجہد کا نعرہ وجود رکھتا اور مصری، امریکی وعدوں کے دھوکے میں آکر اپنے مطالبات سے پسپا نہ ہوتے تو قطعی طور پر یہ صورت حال پیش نہ آتی کہ عوام کو ذلیل کرنے والے آمرین جیلوں سے رہا ہوجائیں اور مصری عوام کے منتخب حکام جیلوں میں بھیج دیئے جائیں اور ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ ٭ مصر میں اگر اصولوں پر استقامت ہوتی تو جو معترضین منتخب حکام کے سامنے آکھڑے ہوئے تھے، وہ ان ہی کی حمایت کے لئے سرگرم ہوتے۔ رہبر انقلاب نے یہاں ایک نکتے کی طرف اشارہ کیا اور وہ نکتہ علاقے میں فرقہ وارانہ اور مذہبی اختلافات کو ہوا دینے کے حوالے سے دشمنان اسلام کے منصوبے سے عبارت تھا۔ ٭ دشمن اس پالیسی یا منصوبے کے نفاذ اور فتنہ انگیزی کی آگ کو مشتعل کرنے کے لئے دو اجرتی ٹولوں کو استعمال کررہا ہے جن میں ایک سنی کے نام سے تکفیری اجرتی ٹولہ ہے اور دوسرے ان کے وہ اجرتی کارندے ہیں جو شیعہ کے نام سے سرگرم عمل ہیں۔ ٭ جو بھی مجموعہ اور حکومت اس عظیم سازش کے دھوکے میں آتے ہيں وہ قطعی طور پر اسلامی تحریک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ٭ شیعہ اور سنی بزرگ علماء کو خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں اسلامی فرقوں کے درمیان اختلافات کہیں نئی محاذ بندیوں اور اصل دشمنوں سے عوام کی غفلت کا سبب نہ بنیں۔ اندرونی حالاترہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: ملکی مسائل حل کرنے کا حقیقی راستہ یہ ہے کہ عاقلانہ اور دانشمندانہ نگاہ سے نظام اسلامی کے اندرونی ڈھانچے کو تقویت پہنچائی جائے۔ ٭ اندرونی ڈھانچے کو طاقتور بنانا علمی و سائنسی ترقی اور معیشت کا انتظام درست طریقے سے چلانے کے ذریعے ممکن ہے۔ ٭ آج اگر ملکی تیل کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جنگ کے بعد تیل کی صنعت پر اپنی معیشت کا دارومدار کم نہيں کرسکے ہیں چنانچہ ہمیں مسلسل انداز سے اندرونی ڈھانچے کی تقویت اور اپنی قوت اور ارادے کی مدد سے مشکلات حل کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ ٭ موجودہ حالات کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ ملک میں ایک تازہ دم حکومت برسر اقتدار آئی ہے جس کے پاس ـ ملک کو اہداف کی طرف آگے بڑھانے کے لئے صلاحیتوں اور عزم و ارادے کے حامل افراد ایک مجموعہ بھی ہے۔ ملک کے نئے صدر جمہوریہ شاندار ماضی کے حامل اور مختلف شعبوں میں فعال اور انقلابی عالم دین ہیں چنانچہ سب کو حکومت کی مدد کرنی چاہئے اور میں بھی جس طرح کہ سابقہ حکومتوں کی حمایت کرتا آیا ہوں اس حکومت کی بھی حمایت کروں گا۔ ٭ البتہ حکومتوں کے لئے میری حمایت کا مفہوم یہ نہيں ہے کہ میں ان کے سارے اعمال و افعال کی تائید کرتا ہوں اور ممکن ہے کہ کچھ عیوب و اعتراضات بھی ہوں لیکن ان عیوب کو حکومت کی مدد کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ ٭ امام خامنہ ای نے فرمایا: حکومت کی مدد کے ساتھ ساتھ اس کو خیرخواہانہ نصیحت کرنا بھی ضروری ہے۔ ٭ حکام کو بھی چاہئے کہ ان خیرخواہانہ نصائح کو قبول کریں خواہ یہ نصائح بعض مواقع پر تند و تیز ہی کیوں نہ ہوں۔ عالمی اور علاقائی محاذ بندیاں ٭ ع
مجلس خبرگان کے اراکین سے خطاب؛
امام خامنہ ای: امریکہ قطعی طور پر شام میں نقصان اٹھائے گا/ مصریوں کو اسرائیل دشمنی ترک کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا
5 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 459939
رہبر انقلاب اسلامی نے چوتھے دور کی مجلس خبرگان کے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: انسانیت کا مسئلہ وہ نہيں ہے کہ دنیا والے یقین کرکے کہ امریکی شام میں اس کے درپے ہیں؛ ہمیں یقین ہے کہ امریکی شام کے سلسلے میں خطا اور غلطی کررہے ہیں اور اسی بنا پر وہ اس جنگ میں اپنے پیکر پر وارد ہونے والی ضرب کو محسوس کریں گے/ اگر مصر میں انقلاب کے بعد اسرائیل کے خلاف جہاد کا نعرہ لگایا جاتا اور انقلاب کے بعد کے حکمران امریکی وعدوں سے متاثر ہوکر اپنے مطالبات سے پسپا نہ ہوتے تو مصری عوام کی تذلیل کرنے والا آمر جیل سے رہا نہ ہوتا اور عوام کے منتخب حکام جیلوں میں بند نہ کئے جاسکتے/ مصریوں کو اسرائیل کی دشمنی ترک کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔