30 اگست 2013 - 19:30
دہشتگردوں سے مقابلے میں عراقی فوج کی کامیابیاں

عراقی فوج نے ملک کے مختلف علاقوں میں دہشتگرد گروہوں کے خلاف آپریشن جاری رکھتے ہوئے دسیوں دہشتگردوں کو گرفتار اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا ہے۔

ابنا: عراق کی وزارت دفاع نے  ملک کے شمالی علاقوں میں آج دہشتگردوں کے پچاس اڈوں کی نابودی اور دہشتگردوں کے چار خطرناک سرغنوں کی ہلاکتوں کی خبر دی ہے۔ عراقی وزارت دفاع کے بیان میں مزید آیا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے دوران عراقی فوج نے شام کی سرحد کے قریب دہشتگردوں کی بارہ گاڑیوں کو بھی تباہ کردیا ہے۔ عراقی فوج نے ایک جانب ملک کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھا ہے اور دوسری جانب  وہ اپنے ملک میں شام کے بحران کی سرایت کی روک تھام کررہی  ہے اسی وجہ سے عراقی حکام اپنے ملک کے عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ دشمنوں کے خلاف ماضی کی نسبت زیادہ ہوشیاری کا مظاہرہ کریں  اور عراق میں دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کے سدراہ ہوں۔ اسی سلسلے میں عراق کے ایک رکن پارلیمنٹ جبر باقر زبیدی  نے کہا ہے کہ فوج دہشتگردوں کی نابودی کے لۓ اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔عراقی وزیر اعظم نوری مالکی نے بھی عراقی سیکورٹی فورسز سے کہا ہے کہ وہ دہشتگردوں سے مقابلے کے سلسلے میں کسی کوشش سے دریغ نہ کریں کیونکہ بعض ممالک کی جانب سے شام کے مسلح دہشتگردوں کے لۓ بھیجے جانے والے ہتھیار عراق کے دہشتگردوں کے لۓ بھی بھیجے جاتے ہیں۔ نوری مالکی نے مزید کہا کہ شام کے دہشتگردوں کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ اب عراق اسمگل کۓ جارہے  ہیں اور دہشتگرد ہمارے ملک میں داخل ہو کر اسے بدامنی اور عدم استحکام کا  شکار کرنا چاہتے ہیں۔ عراقی وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ اگر شام کا بحران سیاسی طریقے سے حل نہ کیا گیا تو اس کا دائرہ شام کے ہمسایہ ممالک تک پھیل جائے گا۔ دریں اثناء حکومت قانون اتحاد کے ایک سینئر رہنما عمار حمد نے کہا ہے کہ ترکی اور سعودی عرب عراق میں دہشتگردوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ عمار حمد نے آج العالم ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران عراق میں ہونے والے بم دھماکوں کے اہداف کے بارے میں کہا کہ دہشتگرد ان دھماکوں کے ذریعے عراق کی تعمیر نو کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔ عمار حمد نے مزید کہاکہ عراق کی جمہوریت ہمسایہ ممالک کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے۔ عراقی پارلمینٹ کے اراکین نے ملک کے بحران کا حل قومی آشتی کو قرار دیا ہے۔ عراقی پارلیمنٹ کے ایک اور رکن محمود عثمان نے شرپسندوں کی سازشوں کے مقابلے میں عراقی عوام کی ہوشیاری پر تاکید کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی مسائل کے حل کے ذریعے بھی عراق میں جاری بدامنی میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ 

.......

/169