اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، امام خمینی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سنٹر کے چئرمین آیت الله محمد تقی مصباح یزدی نے عشرہ کرامت کے عنوان سے پروگرام کی مرکزی کونسل کے اراکین سے ملاقات میں کہا: انسانی روح کو شامل ہونے والی برکتیں ھرگز فنا نہیں ہوں گی ۔دینی معارف بالاترین نعمت ہےانہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ عقل کے بعد دینی معارف کا بالاترین نعمتوں میں شمار کیا جا سکتا ہے کہا: انبیاء الھی، نعمت معارف الھی کا وسیلہ ہیں کہ جو خیر عظیم ہے ۔ امام خمینی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سنٹر کے چئرمین نے بیان کیا: عقل، معارف الھی کی شناخت کا وسیلہ اور دین اسلام بہترین اور کامل ترین نعمتوں میں سے ہے جس نے معارف کی نعمت انسانوں کو عطا کی ہے ۔آیت الله مصباح یزدی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ قرآن و اهل بیت(ع) انسان کو ملنے والی معنوی برکتیں ہیں کہا: ان دو معنوی برکتوں کے بعد ضروری ہے کہ انسانوں کو مناسب، بہتر اور درست ائیڈیل سے آگاہ کیا جائے ۔انہوں نے واضح طور سے کہا: معمولا لوگ مادی نعمتوں کی قدر نہیں جانتے اور یہی ناقدری معنوی نعمت کے سلسلہ میں بھی قابل دید ہے ۔انہوں ںے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مسلمانوں نے اهل بیت(ع) سے بخوبی استفادہ تو کیا ان کے راستہ میں روڑے بھی اٹکائے کہا: اگر چہ شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ انہوں نے اهل بیت(ع) کے حق میں کم جفائیں کی ہیں اور وہ دوسروں سے زیادہ آپ کے قدرداں رہے ہیں ۔آیت الله مصباح یزدی نے بیان کیا: امام خمینی(ره) کی رھبری میں کامیاب ہونے والے انقلاب اسلامی نے بہت ساری کمیوں کا ازالہ کیا ، انقلاب ایران کے بعد حوزہ علمیہ قم اور علما نے اس جانب خصوصی توجہ رکھی ہے ۔انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ماضی میں سیاسی اور سماجی مسائل میں علما کی شرکت، اسلامی اقداروں کے خلاف سمجھی جاتی تھی کہا: یہ باتیں اتنی زیادہ بڑھ چکی تھیں کہ سیاسی ہونا برطانیہ کے سامراجی حکمرانوں کے برابر تھا ۔امام خمینی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سنٹر کے چئرمین نے مزید کہا: دشمن اس حربہ کے ذریعہ طلاب کو سیاست اور سماج میں آنے سے روکنے میں کامیاب ہوگیا تھا مگر امام خمینی(ره) نے اس فکرکو بدل کر رکھدیا، اگر چہ ہم آج بھی اس بات کے شاھد ہیں کہ کچھ افراد روحانیت کو سیاست کے میدان میں آنے سے روکنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔عشرہ فاطمیہ کا بھی عشرہ کرامت کے مانند احیا کیا جائے انہوں نے مراجع تقلید کی جانب عشرہ فاطمیہ کے احیا کئے جانے اور امام خمینی(ره) کے بیانات میں موجود اس کی اھمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: عشرہ کرامت ، اهل بیت(ع) کی خوشی کے ایام کے عنوان سے پورے جوش و ولوے کے ساتھ منایا جائے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اهل بیت(ع) کی سیرت کی ترویج سبھی خصوصا علما کی ذمہ داری ہے کہا: اس سلسلہ میں بہت سارے راستہ موجود ہیں اور شیعوں کی ذمہ داری ہے ائمہ طاھرین(ع) کی خصوصیتوں اور امتیازات سے تمام مسلمانوں اور دنیا کو آگاہ کریں ۔حوزہ علمیہ قم کے اس نامور استاد نے دھشت گرد تکفیری وھابی گروہ کے ہاتھوں شام میں انجام پانے والے دھشت گردانہ اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا: کوئی بھی انسان خود کو کسی دوسرے انسان کی جان لینے اور اس کا جگر کھانے پر تیار نہیں کرسکتا، تاریخ میں فقط ھندہ جگر خوار کا تذکرہ موجود ہے جس نے اس کام کو کیا تھا ۔وھابیت سے مقابلے کا صحیح طریقہ تعلیم اور آگاہی ہےانہوں نے مزید کہا: مقتولوں کا جگر کھانے سے کہیں زیادہ بدتر یہ ہے کہ یہ عمل اللہ کے نام پر انجام دیا جائے، لھذا ضروری ہے کہ ان افکار اور وھابیت سے مقابلے کا صحیح طریقہ بتایا جائے کہ اس سلسلہ میں اهل بیت(ع) سب سے بہتر وسیلہ ہیں ۔آیت الله مصباح یزدی نے یاد دہانی کی: بسا اوقات دیکھنے میں آیا ہے اهل بیت(ع) کی شان میں غلو سے بچنے کے لئے آنحضرات(ع) کو معمولی انسانوں کے برابر لے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ فقط علم اور دین کے سلسلہ میں ہم سے بہتر ہیں ۔نادان احباب دشمنوں کو مناسب خوراک فراہم کرتے ہیںآیت الله مصباح یزدی نے مقام اهل بیت(ع) میں افراط و تفریط، ان کے حق میں جفا کا مصداق جانا اور کہا: بسا اوقات نادان احباب ایسے نعرے لگاتے اور ایسی باتیں زبانوں پرلاتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ دشمنان اہلبیت علیھم السلام کے لئے خوراک اور بہانہ قرار دیتے ہیں ۔انہوں نے آخر میں کہا: امید ہے کہ خداوند متعال شھداء کے خون کی برکت اور مخلص افراد کی کوششوں سے ہمیں اهل بیت(ع) کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے گا ۔
.....
/169