26 اگست 2013 - 19:30
شام پر حملے کے خطرناک نتائج کے بارے میں ایران کا انتباہ

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان سید عباس عراقچی نے خبردار کیا ہےکہ شام کےخلاف کسی بھی طرح کی فوجی کارروائی کے پورے خطے کے لۓ خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان سید عباس عراقچی نے خبردار کیا ہےکہ شام کےخلاف کسی بھی طرح کی فوجی کارروائی کے پورے خطے کے لۓ خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ سید عباس عراقچی نے آج ملکی اور غیر ملکی نامہ نگاروں کے ساتھ پریس بریفنگ کے دوران شام کے خلاف فوجی حملے کی باتوں اور اس سلسلے میں امریکہ کی دوہری پالیسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ شام پر فوجی حملے کی باتیں  کرنے والے امریکی اور بعض یورپی حکام  بقدر ضرورت عقل کے حامل ہوں گے۔ سید عباس عراقچي نے مزید کہا کہ خطے کو حساس صورتحال کا سامنا ہے اور اسے دوسری ہر چيز سے زیادہ امن و سلامتی کی  ضرورت ہے تاکہ موجودہ مشکلات کو حل کرنے کے لۓ سیاسی طریقے تلاش کر سکے۔سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب جیفری فلٹ مین کے دورۂ ایران کے بارے میں کہا کہ فلٹ مین سیاسی امور میں بان کی مون کے نائب ہیں اور انھوں نے اسی حیثیت سے ایران کا دورہ کیا اور ان کے اس دورے کا ان کی شہریت یا اس کے سابقہ سفارتی عہدوں کے ساتھ کوئي تعلق نہیں ہے۔سید عباس عراقچي نے مزید کہا کہ جیفری فلٹ مین نے خطے خصوصا شام کی صورتحال کے بارے میں مشاورت کے مقصد سے ایران کا دورہ کیا اور انھوں نے ایرانی وزارت خارجہ کے حکام کے ساتھ خطے خصوصا شام کے مسائل کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔  سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ان کو شام کے حالیہ چند دنوں کے حالات اور شام پر ممکنہ فوجی حملے کے بارے میں ان کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مواقف سے آگاہ کیا گیا اور صراحت کے ساتھ کہا گيا ہے کہ فوجی کارروائی کے شام اور خطے کے لۓ خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے عمان کے بادشاہ کے دورۂ تہران کے بارے میں کہا کہ  اس دورے سے دونوں ممالک کے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی ہوتی ہے۔سید عباس عراقچی نے جنیوا دو کانفرنس کے بارے میں اس بات کو بیان کرتے ہوئے اس کانفرنس کے انعقاد سے متعلق کوششوں میں تیزی آئی ہے اور امریکہ ، روس اور اقوام متحدہ کے حکام کے درمیان ملاقاتیں ہوئي ہیں اور ہو رہی ہیں اس امید کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس جلد از جلد بلائي جائے گی کیونکہ موجودہ صورتحال میں اس کی ضرورت زیادہ شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے خصوصا رپورٹر احمد شہید کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے نام دو خط بھیجے جانے اور ایران کے دورےکی درخواست کے بارے میں کہا کہ احمد شہید ایک منصف رپورٹر نہیں ہے اور اپنی رپورٹوں میں اس نے انصاف سے کام نہیں لیا ہے ۔ اس نے ایک مخالف کا کردار ادا کیا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان سید عباس عراقچی نے ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کی رپورٹ پیش کۓ جانے کے موقع پر کہا کہ  ایران نے این پی ٹی معاہدے کے دائرہ کار میں اپنے تمام فرائض انجام دیۓ ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے ایک عالمی ادارے کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کرے گي اور معاملے کے صرف تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲