ابنا: سیدعباس عراقچی نے کل رات ایران کےایٹمی پروگرام کےبارے میں فرانس کے وزیرخارجہ کے بیان پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں پوری طرح شفاف ہيں اور ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں آئی اے ای اے کی نگرانی میں انجام پارہی ہیں ۔وزارت خارجہ کےترجمان نے ایران اور ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے مابین قریبی تعاون کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرانس کے وزیرخارجہ کے، ایران کے ایٹمی پروگرام میں شفافیت نہ پائےجانے کےدعوے کومسترد کردیا۔وزارت خارجہ کےترجمان نے شام کےداخلی امور میں ہرطرح کی غیرملکی مداخلت کوبھی مسترد کرتے ہوئے جو اس ملک ميں تشدد ، جھڑپوں اور عوام کےقتل عام پرمنتج ہوئی ہے، کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی نظر میں شام کا بحران کچہ مخصوص ملکوں کی مرضی اورمطالبات کی بنیاد پر نہيں بلکہ شام کی حکومت اور شامی عوام کےدرمیان مذاکرات کےذریعے حل ہوسکتا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان نے شام میں دہشتگردوں کےہاتھوں کیمیاوی ہتھیاروں کےاستعمال کی مذمت کرتےہوئے دہشتگردگروہوں کےلئے فنڈ اورہتھیار بھیجنے کاسلسلہ روکنے اوراس اقدام کی مذمت کے لئے فرانس اوردوسرے تمام مغربی ممالک کےردعمل کامطالبہ کیا۔واضح رہے کہ ایران کےوزیرخارجہ محمدجواد ظریف نے بھی اپنے شامی ہم منصب ولیدالمعلم کوٹیلی فون کرکے تاکیدکی ہے کہ کیمیاوی ہتھیاروں کا ہرطرح کااستعمال، انسانی اصولوں کےبرخلاف ہے۔ایران کےوزيرخارجہ نے دہشتگردوں کے ہاتھوں کیمیاوی ہتھیاروں کےاستعمال کی شدیدمذمت کرتے ہوئے اسے انسانی اصولوں اوربین الاقوامی قوانین کے برخلاف قرار دیا اور اس طرح کےانسانیت سوزاقدامات کامقابلہ کرنے کی ضرورت پرتاکیدکی ہے۔
.......
/169