ابنا: علامہ سید ہاشم موسوی مجلس وحدت مسلمین کے رکن شوریٰ عالی و امام جمعہ کوئٹہ ہیں، آپ نے بہت ہی کم عرصہ میں اپنی فعالیت کے ذریعے کوئٹہ میں ملت تشیع کے حقوق کی بازیابی و اتحاد بین المسلمین کے فروغ کیلئے آواز بلند کی اور کافی عرصہ سے ملت میں پائی جانیوالی عدم فعالیت اور سکوت کو توڑا ہے، جس کا ثبوت آج کوئٹہ بھر میں موجود ملت جعفریہ میں بیداری کی لہر ہے۔ اسلام ٹائمز نے صوبہ بلوچستان کے علاقائی مسائل اور ملکی صورتحال سمیت بین الاقوامی حالات پر اُن سے گفتگو کی، جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ ادارہ
کیا بلوچستان کی موجودہ مخلوط حکومت صوبہ کے مسائل کو حل کر پائے گی۔؟
علامہ ہاشم موسوی: بنیادی طور پر مخلوط حکومت کمزور ہوتی ہے، لیکن چونکہ موجودہ حکومت میں چار اہم سیاسی شخصیات محمود خان اچکزئی، نواز شریف، ثناء اللہ زہری اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کردار ہے، ان رہنماوں کے سیاسی کردار میں کافی پختگی پائی جاتی ہے، اس لئے میرا ماننا ہے کہ ان چاروں شخصیات کی تدبیر و ہم آہنگی سے مخلوط حکومت بہ نسبت بہتر کارکردگی دکھا پائے گی۔
ملک کے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے سکیورٹی فورسز اور بالخصوص ایجنسیز کس حد تک کام کر رہی ہیں۔؟
علامہ ہاشم موسوی: اگر پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیز مخلصانہ طور پر پاکستان کے مفاد کیلئے اقدام کریں تو کافی حد تک مشکلات حل ہوسکتی ہیں۔ ایجنسیز اگر چاہیں تو دہشتگردوں کے کیمپوں تک پہنچ کر اُن کے نیٹ ورک کا خاتمہ کرسکتے ہیں اور پولیس، ایف سی سمیت لیویز کو ہر ناکے پر کھڑا کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ علاوہ ازیں ہم نے اکثر سکیورٹی اداروں کے ساتھ میٹینگز میں اُن کے اعلٰی حکام سے کہا ہے کہ آپ کے اداروں کو پہلے اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کو ختم کرنا ہوگا، جو دہشتگردوں کی حامی اور انکے سرپرستی میں سرگرم ہیں۔ پولیس لائن میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد اب قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو درجہ اول میں اپنے اندر دیکھنا ہوگا کہ کون اُن دہشتگردوں کیساتھ تعاون کر رہا ہے۔
کوئٹہ کی ایک سیاسی پارٹی علماء کیخلاف بیان دیتے ہوئے اُنہیں شرپسند کہتی ہے، اس بارے میں آپ کیا کہیں گے۔؟
علامہ ہاشم موسوی: بلوچستان ایک قبائلی معاشرے کی سی حیثیت رکھتا ہے اور یہاں پر آباد تمام اقوام آپس میں برادرانہ تعلقات رکھتے ہیں۔ ہر قوم کی اپنی چار دیواری کے اندر چند ایسی باتیں ہوتی ہیں، جنہیں باہر لے جانا قطعاً قوم یا ملت کے مفاد میں نہیں ہوتا۔ اگر کسی سیاسی پارٹی کو ہم سے کوئی شکایت ہے تو ہمارے دروازے اُن کیلئے ہمیشہ کھُلے ہیں، تاکہ ہم مل بیٹھ کر مسئلے کو حل کرسکیں، لیکن بجائے اسکے کہ وہ سامنے آکر بات کریں، دوسرے غیر سنجیدہ حربوں کو استعمال کرتے ہیں، جو کہ بالکل قوم و ملت کے مفاد میں نہیں ہوتے۔ میری اُن سے استدعا ہے کہ ایسا کام نہ کریں، کیونکہ یہ قوم بیدار ہے اور کوئٹہ کے مومنین الحمد اللہ باشعور ہیں اور ہر باشعور شہری کو آپ کے ان بیانات سے تشویش ہوتی ہے، چونکہ آپ اپنی قوم و ملت کی عزت سے کھیلتے ہیں، جو کہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔
کوئٹہ یکجہتی کونسل کس حد تک معاون ثابت ہوئی اور کیا اب بھی یہ اپنی خدمات کو جاری رکھے ہوئے ہے۔؟
علام ہاشم موسوی: قوم و ملت میں اتحاد انتہائی لازمی ہے۔ کوئٹہ یکجہتی کونسل کا پلیٹ فارم مومنین کیلئے انتہائی موثر ثابت ہوا۔ چند مسائل کی وجہ سے یکجہتی کونسل کے کاموں میں سستی آئی ہے لیکن ہم اس پلیٹ فارم کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دینگے۔ آپ کے توسط سے بھی میں کوئٹہ یکجہتی کونسل کے دیگر رہنماؤں سے یہی گزارش کرونگا کہ اس پلیٹ فارم کو دوبارہ سے فعال بنایا جائے، تاکہ عوام کی خدمت کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس اتحاد کے بعض فریقین جو چاہتے ہیں کہ کوئی اور اتحاد سیاسی اتحاد تشکیل دیں، میری اُن سے بھی گزارش ہے کہ تنظیم در تنظیم نہ بنائیں بلکہ اسی پلیٹ فارم کو مضبوط بناتے ہوئے آگے بڑھیں۔
دہشتگردی کیخلاف ہماری حکمت عملی کیا ہونی چاہیئے۔؟
علامہ ہاشم موسوی: دہشتگردی ایک خطرناک مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان کیلئے بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اسی کی بنیاد شیطان پرستوں، فری میسن اور اُنکے ایجنٹ امریکہ و اسرائیل نے ایجاد کیا اور خود ساختہ فرقوں کے نام پر مسلمانوں میں وارد ہوئے۔ میں درجہ اؤل میں تمام مسلمانوں سے استدعا کرونگا کہ جن فرقوں کو وجود میں آئے ایک صدی ہوئی ہے، یہ ایک خاص ایجنڈے کے تحت وجود میں لائے گئے ہیں۔ شیعہ و سُنی تو پچھلے چودہ سو سالوں سے باہم برادارنہ زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ ہمارے علمائے حق نے کبھی برادران اہلسنت کیخلاف نازیباء الفاظ استعمال کئے اور نہ ہی اُنہوں نے کبھی مکتب تشیعُ کیخلاف کوئی غلط بات کہی ہے۔ لہذا ہمارے درمیان جو تیسرا نوزائیدہ گروہ ہے ہمیں اُس کو اپنے درمیان سے نکال باہر کرنا ہوگا۔ اس مقصد کیلئے بین الاقوامی سطح پر شیعہ و سُنی کو ملکر ایک مشترکہ اقدام اُٹھانا ہوگا، تاکہ ان کی جڑوں کو کاٹا جائے۔
بعنوان مومنین کوئٹہ ہمیں چاہیئے کہ دہشتگردوں کیخلاف قیام کریں اور ہمارا ہر اقدام قانون کے مطابق ہونا چاہیئے اور ہم اگر متحد ہوکر قانونی و اخلاقی طریقے سے ظلم کیخلاف قیام کریں گے تو اللہ تعالٰی کے فضل سے کامیابی ہمیں مل سکتی ہے، اور اس کامیابی کا مشاہدہ ہم نے پچھلے دو دھرنوں میں بھی کیا۔ دوسرا اہم کام اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینا ہے۔ تاکہ پاکستان کو دہشتگردی کے اس ناسور سے پاک کیا جاسکے۔
آئندہ بلدیاتی انتخابات میں آپ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔؟
علامہ ہاشم موسوی: کسی بھی طالب علم کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کی خدمت کیلئے کسی ایسے شخص کا انتخاب کرے، جو ہر قسم کے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر یہ کام کرسکے۔ ہماری بھی کوشش یہی ہوگی کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں کسی قابل شخص کا انتخاب کرکے الیکشن میں بھرپور حصہ لیں۔
کیا وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ مسلح تنظیموں اور مذہبی انتہا پسندوں سے مذاکرات میں کامیاب ہوپائینگے۔؟
علامہ ہاشم موسوی: چونکہ وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے اس سے قبل بلوچ مسلح تنظیموں سے اچھے تعلقات رہے ہیں، لہذا اُن سے یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ناراض بلوچوں سے مذاکرات میں کامیاب ہوں۔ صوبائی حکومت کو اگر وفاق سے اختیارات ملے تو مسئلہ بلوچستان کو کافی حد تک حل کیا جاسکتا ہے۔ دہشتگردی کا مسئلہ جیسا کہ میں نے بتایا صرف کوئٹہ کا نہیں بلکہ پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے۔ لہذا اگر وہ پاکستان کی ریاست، آئین و قانون کو مانتے ہوئے مذاکرات کرنا چاہیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اگر وہ اس ملک کے بانی کو ہی نہیں مانتے اور طاقت سے اپنی سوچ مسلط کرتے ہیں تو اُن سے کیسے مذاکرات کیے جاسکتے ہے۔
جنرل کیانی نے 14 اگست کو ملٹری پیریڈ میں دہشتگردوں کیخلاف واضح طور پر اعلان جنگ کیا، اس بارے میں آپ کیا کہیں گے۔؟
علامہ ہاشم موسوی: سب سے پہلے تو میں جنرل کیانی صاحب کو مبارکباد پیش کرونگا، اگرچہ اںہوں نے یہاں تک پہنچنے میں دیر کر دی ہے، لیکن اُنکا فیصلہ درست ہے۔ ہم اُن کے اس واضح بیان کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے پاک افواج کو یقین دلانا چاہتے ہے کہ اگر مادرِ وطن کی خاطر آپ یہ قدم اٹھائیں تو انشاءاللہ پوری پاکستانی قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہوکر دہشتگردوں کا مقابلہ کرے گی۔ الحمداللہ پاکستان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ان باطل قوتوں کو شکست دے سکے۔
مصر میں جاری کشیدگی کے محرکات کیا ہیں۔؟
علامہ ہاشم موسوی: میں نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ اخوان المسلمین جس مقصد کیلئے وجود میں لائی گئی تھی وہ اقتدار میں آکر اپنے اُن اہداف اور مقاصد کو بھول گئی۔ صدر مرسی اور اُنکی جماعت کا اقتدار پر قابض ہونے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی جانب جھکاؤ اُنکی معزولی اور پورے ملک میں کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔ لہذا موجودہ حالات و واقعات سے سب کیلئے واضح ہوجانا چاہیئے کہ یہ صہیونی طاقتیں کبھی بھی مسلمانوں کی دوست نہ تھیں اور نہ کبھی ہونگی۔
.......
/169