ابنا: فلسطینی وزیراعظم اور اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کے سیاسی شعبے کے نائب صدراسماعیل ہنیہ نے مصرمیں مداخلت کے تمام الزامات یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت یا حکومت کا مصر کے اندرونی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی آزادی فلسطین کا بیس کیمپ ہے اور اسے تاراج نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہماری لڑائی صرف قابض صہیونی دشمن کے خلاف ہے اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار غزہ میں نماز جمعہ کے خطبہ میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ تحریک حماس یا غزہ کی حکومت کا مصر کے موجودہ اندرونی خلفشار، رفح یا جزیرہ نما سینا میں ہونے والے واقعات میں کوئی کردار ہے، وہ فلسطین اور مصر دونوں کے دشمن ہیں۔
اسماعیل ہنیہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی حکومت یا جماعت کی جانب سے مصر کے کسی دھڑے کو کسی بھی قسم کی مدد نہیں دی گئی۔ ہم صرف مصر کے لیے دعائے خیر ہی کرسکتے ہیں۔ ہم صرف بھائی چارے اور محبت کا پیغام بھیج رہے ہیں۔ عسکری کارروائیوں میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے۔ ہماری جنگ فلسطین کی آزادی کے لیے ہے اور جنگ کی تمام تر توانائیاں اور وسائل صرف صہیونی دشمن کے خلاف استعمال کریں گے۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں حماس اورمنظم جماعت اخوان المسلمون کے درمیان افکار اور نظریات میں ہم آہنگی ہے اور ہمیں اس پر فخر بھی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حماس کی حکومت یا جماعت اپنے طورپر مصرمیں مداخلت کرتی پھرے۔ اخوان المسلمون اس وقت دنیا کے 70 ملکوں میں اپنا ایک وسیع نیٹ ورک رکھتی ہے۔ ہمارا ان لوگوں سے رابطہ صرف فلسطینی کاز کی حمایت کے حصول کے سلسلے میں رہتا ہے۔ ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے اخوان المسلمون سے رابطے نہیں کرتے ہیں۔
مصر سے شکایات ہیں دشمنی نہیں
اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ ان کی جماعت اور حکومت کو غزہ کی نئی قیادت سے شکایات ضرورہیں لیکن دشمنی نہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ مصرکی موجودہ برسراقتدار قیادت کی جانب سے معزول صدر محمد مرسی پرحماس کے لیے جاسوسی اور حماس کے کارکنوں کی مدد سے جیل توڑنے جیسے بھونڈے الزامات عائد کیے گئے۔ مصر کی جانب سے اس طرح کے الزامات ان مصری شہداء کی قربانیوں کے خلاف ہیں جو انہوں نے آزادی فلسطین کے لیے سرزمین فلسطین میں دے رکھی ہیں۔
مصر سے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حماس اورقاہرہ کے درمیان تعلقات پچھلے 25 سال پرمحیط ہیں۔ یہ تعلقات صرف معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے اقتدار سنبھالنے سے نہیں شروع ہوئے بلکہ سابق حکومتوں کے ساتھ بھی حماس رابطے رکھتی رہی ہے۔ سیاسی قیادت سے ہٹ کرحماس کے مختلف سیاسی ،مذہبی گروپوں اور مسلح افواج سے بھی رابطے رہے ہیں۔ یہ رابطے صرف فلسطینی کاز کو مضبوط بنانے اور تحریک آزادی فلسطین کو تیز کرنے کی حد تک محدود تھے۔
فلسطینی عوام مصری کردار کو ہمیشہ اچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سابق مصری حکومتوں نے کئی اہم مواقع پر فلسطینیوں کی مدد کی۔ فلسطینی متحارب دھڑوں کے درمیان صلح کرانے سے لے کر اسرائیل سے قیدیوں کے تبادلے جیسے بڑے معاہدوں تک مصر کا کردار کلیدی رہا ہے۔ ہم مصری عوام اور حکومتوں کے ان احسانات کو فراموش نہیں کرسکتے۔
فلسطینی وزیراعظم نے مصر میں جاری خون خرابے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور تمام قومی دھاروں پر زور دیا کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں۔ طاقت کے استعمال سے کوئی ایک تنظیم یا جماعت نہیں بلکہ پورا مصر کمزور ہوگا۔ اخوان المسلمون کے کارکنوں اور سابق معزول صدر کے حامیوں پر طاقت کے استعمال کا مشورہ دینے والے مصر کے خیر خواہ نہیں ہیں۔
اسماعیل ھنیہ نے غزہ کی پٹی اور حماس کے مصر میں مداخلت بارے مسلسل الزام تراشی کرنے والے قلم کاروں اور نام نہاد میڈیا وارلارڈز کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے۔ فلسطینی چاہے وہ جہاں بھی ہوں۔ غزہ کی پٹی، مغربی کنارا، بیت المقدس، شمالی اور جنوبی فلسطین، حتیٰ کہ بیرون ملک مقیم فلسطینیوں کے جذبہ آزادی کو بھی ٹھنڈا نہیں کیا جاسکتا ہے۔
.......
/169