ابنا: مصر اس وقت کشیدہ اور بحرانی حالات سے گزر رہا ہے۔ برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں نے ملک کو خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اس وقت ملکی حکام کے ہر اقدام پر مخالفین کی سخت نظر ہے اور وہ اس پر سخت ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔مصر میں گورنروں کی تبدیلی اور صدر عدلی منصور کی موجودگی میں پچیس نئے گورنروں کی حلف برداری کی تقریب پر ردعمل کا اظہار کیا گيا ہے۔ مصری مخالفین نے اس بات کے پیش نظر کہ اکثر نئے گورنر ریٹائرڈ فوجی افسر ہیں، اسے مصر کے سیاسی میدان میں فوجیوں کی واپسی سے تعبیر کیا ہے۔مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کے دور میں بھی ریٹائرڈ جنرلوں کی تقرری رائج تھی لہذا مصر کی عبوری حکومت کی جانب سے ریٹائرڈ فوجیوں کو گورنر بنائے جانے کے اقدام نے حسنی مبارک کے دور کی تلخ یاد تازہ کر دی ہے۔منگل کے روز محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں نے عبوری حکومت کے اس اقدام کی مخالفت میں مظاہرہ کیا اور وزارت داخلہ اور ایوان صدر جیسے حساس سرکاری مراکز کی طرف پیش قدمی کر کے حکومت میں کی جانے والی تبدیلیوں پر احتجاج کیا۔وزارت داخلہ کے سامنے ہونے والے مظاہرے کے دوران عبوری کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں سکیورٹی فورسز نے بھی مداخلت کی اور اس طرح یہ پرامن مظاہرے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو گئے۔گزشتہ روز قاہرہ اور اسکندریہ سمیت مصر کے اکثر شہروں میں محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین نے مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں کے موقع پر خبر آئی کہ برطرف صدر محمد مرسی کی گرفتاری کی مدت میں مزید پندرہ دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ اس خبر کے منظرعام پر آنے سے مصر میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گيا۔ خصوصا اس لیے کہ محمد مرسی نے ایک پیغام میں دھمکی دی ہے کہ اگر احتجاجی مظاہرین کے خلاف تشدد کا استعمال کیا گیا تو وہ بھوک ہڑتال کر دیں گے۔اس قسم کی خبروں کے منظرعام پر آنے کے بعد مصر کی عبوری حکومت کے حکام نے موجودہ بحرانی صورت حال کے جاری رہنے پر خطرے کا احساس کرتے ہوئے عبوری صدر عدلی منصور، نائب صدر محمد البرادعی، وزیراعظم حازم البیلاوی، وزیر دفاع عبدالفتاح السیسی، وزیر داخلہ محمد ابراہیم اور وزیر انصاف عادل عبدالحمید نے ایک اجلاس کے دوران آپس میں صلاح و مشورہ کیا۔ یہ اجلاس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مصر میں اعلی سطح پر سنگین ملکی صورت حال کے بارے میں تشویش پائي جاتی ہے۔ان حالات میں اخوان المسلمین کے ترجمان جہاد حداد نے جامعۃ الازہر کی ثالثی سے ملک کے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے مشروط آمادگی کا اعلان کیا ہے۔تمام شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر کے حالات ہر روز پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے جا رہے ہیں اور اگر مصر کو اس بحران سے نکالنے کے لیے فوری اقدام نہ کیا گيا تو یہ ملک خطرناک بھنور میں پھنس جائے گا۔ خصوصا اس لیے کہ مسلح اور انتہا پسند گروہ مصر میں خود کو منظم کر رہے ہیں۔ اس وقت بہت سے سیاسی حلقوں نے سینا کے علاقے میں حالیہ بدامنی کے واقعات کو مصر میں سیاسی بحران کے جاری رہنے کے منفی اثرات کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
14 اگست 2013 - 19:30
News ID: 451875
وزارت داخلہ کے سامنے ہونے والے مظاہرے کے دوران عبوری کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں سکیورٹی فورسز نے بھی مداخلت کی اور اس طرح یہ پرامن مظاہرے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو گئے۔