13 اگست 2013 - 19:30
مصر میں فوجی کاروائی، 2200 افراد ہلاک اور 8000 سے زائد زخمی

مصر میں معزول صدر محمد مرسی کے حامی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فوج کی کاروائی میں 2200 افراد مارے گئے ہیں۔

ابنا: اخوان المسلمین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دھرنے پر بیٹھے مرسی کے حامیوں کے خلاف فوجی کاروائی میں 2200  افراد جاں بحق اورآٹھ  ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ اسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔دوسری جانب فوج نے کہا ہے کہ مرسی کے حامیوں اور فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں دو فوجی مارے گئے ہیں۔

 مصرکي صورتحال، سامراجي طاقتوں اور ان کے ايجنٹوں کے حق میں

اسلامي جمہوريہ ايران نے مصر ميں جاري لڑائيوں اور بڑي تعداد ميں لوگوں کے مارے جانے کي خبروں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرين پرفوج کے حملے کي مذمت کي ہے -اسلامي جمہوريہ ايران کي وزارت خارجہ نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ مصر کے حالات انتہائي افسوس ناک ہے اور لوگوں پر فوج اور سيکورٹي فورس کا حملہ قابل مذمت ہے - بيان ميں خبردار کيا گيا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پيش نظر مصر ميں خانہ جنگ شروع ہوسکتي ہے اور مصري عوام کا انقلاب ختم ہوسکتا ہے -ايران کي وزار ت خارجہ نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ مصرکي موجودہ صورتحال صہيوني حکومت،  سامراجي طاقتوں اور ان کے کرائے کے ايجنٹوں کو ہي فائدہ پہنچا رہی ہے -اسلامي جمہوريہ ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسي طرح ايران کي پارليمنٹ ميں کابينہ کے نامزد ارکان کے ناموں پر جاري بحث کو ٹيلي ويژن سے براہ راست نشرکئے جانے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ پارليمنٹ کي کاروائي کو براہ راست نشرکرنے سے يہ بات ثابت ہوجاتي ہے کہ ايران ميں جمہوريت بہت زيادہ مستحکم اور  سياسي بالغ نظري کي سطح کافي بلند ہے۔

 

...../169