اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مصری کے تکفیری سلفی جو شہید شحاتہ اور ان کے ساتھیوں کا خون پی کر سیراب نہیں ہوئے اس بار ان کے بھائی پر حملہ آور ہوئے۔جمعہ کے روز نماز جمعہ سے کچھ گھنٹے پہلے مصر کے صوبہ شرقیہ کے علاقے ہربیط اور ابوکبیر کے سلفیوں نے شہید شیخ حسن شحاتہ کے بھائی پر ناکام حملہ کیا اور انہیں گھر چھوڑنے کی دھمکی دی۔سلفی گروہ حزب النور کے سرکردوں احمد محمد موسی، محمد محمود الاشقر اور احمد اسماعیل جلام نے شیخ شحاتہ کے بھائی اسماعیل شحاتہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا: اس ملک کو چھوڑ دو یہاں یا ہم رہ سکتے ہیں یا تم۔ان تین افراد نے ۴۰۰ افراد کے ہمراہ شیخ اسماعیل شحاتہ کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں گالیاں گلوچ کرنا شروع کر دیا۔خوش قسمتی سے اذان ظہر نے شیخ اسماعیل کو بچا لیا۔ اذان ہوتے ہی لوگ جمع ہو گئے اور انہوں نے سلفی ملاوں کو نماز میں شرکت اور شیخ اسماعیل کو چھوڑنے پر مجبور کیا۔ شیخ اسماعیل شحاتہ نے نامہ نگاروں کو بتایا: میں گھر سے باہر نہیں نکل سکتا ہوں۔ اس لیے کہ میرے بھائی کے قتل کے بعد کئی مرتبہ اس گاوں کے سلفی مجھے قتل کی دھمکی دے چکے ہیں۔واضح رہے کہ شہید شیخ شحاتہ مصر کے ایک برجستہ مبلغ تھے جنہوں نے شیعہ مذہب قبول کرنے کے بعد مذہب اہلبیت(ع) کی بڑے پیمانے پر ترویج کی اور آخر کار مصر کے صوبہ الجیزہ کے علاقے ابومسلم میں ۱۵ شعبان کی رات تکفیری سلفیوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
10 اگست 2013 - 19:30
News ID: 450578
مصر کے تکفیری سلفیوں نے علامہ شہید حسن شحاتہ کی شہادت کے ٹھیک ڈیڑھ مہینہ بعد ان کے بھائی شیخ اسماعیل شحاتہ کو بھی اپنے حملات کا نشانہ بنا کر انہیں مصر چھوڑنے کی دھمکی دی۔