10 اگست 2013 - 19:30
بارزانی کا القاعدہ کے خلاف شامی کردوں کی حمایت کا اعلان

عراقی کردستان کے علاقے کے سربراہ مسعود بارزانی نے قومی کانگرس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ عراقی کردستان، دہشت گرد گروہ القاعدہ کے ساتھ لڑائی میں شامی کردوں کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس موقف کا اعلان دہشت گرد گروہ القاعدہ کی جانب سے شامی کردوں کے خلاف اعلان جنگ کے بعد کیا ہے۔

ابنا: بارزانی نے کہا کہ اگر شامی کردوں اور شہریوں پر القاعدہ کے حملوں کے بارے میں خبریں صحیح ہوئیں اور کردوں کو دہشت گردی اور جان کے خطرے کا سامنا ہوا تو عراقی کردستان کا علاقہ شامی کردوں کو اپنے دفاع کے لیے ضروری وسائل و امکانات فراہم کرے گا۔ بارزانی نے اسی طرح شام کے کرد آبادی والے علاقوں پر حالیہ حملوں کی حقیقت جاننے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔گزشتہ دنوں کے دوران بعض ذرائع ابلاغ نے خبریں دی ہیں کہ شام کے شمالی علاقے میں دہشت گرد گروہ القاعدہ اور خاص طور پر اس سے وابستہ النصرہ محاذ نے ساڑھے چار سو سے زائد افراد کو قتل اور سینکڑوں کرد عورتوں کو اغوا کر لیا۔شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران شام کے کرد آبادی والے علاقوں خاص طور پر تل ابیض، تل عران اور تل حاصل میں النصرہ محاذ کے دہشت گردوں نے دسیوں کردوں کا وحشیانہ طریقے سے قتل عام کیا ہے۔ شامی کردوں کا یہ خیال ہے کہ دہشت گرد منظم طریقے سے ان کا نسلی صفایا کر رہے ہیں۔شامی کردوں نے گزشتہ تین سال کے دوران دہشت گردوں کی کبھی بھی حمایت نہیں کی اور یہی چیز القاعدہ اور النصرہ دہشت گرد گروہوں کے غصے کا سبب بنی ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گرد گروہوں نے شام میں جن جرائم کا بھی ارتکاب کیا ہے، ان سب کے باوجود ترکی ان کی بھرپور حمایت کر رہا ہے اور اس نے کئي بار شام میں سرگرم دہشت گردوں کو مالی اور فوجی مدد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ شامی حکومت کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے ترکی دہشت گردوں خاص طور پر النصرہ محاذ کی حمایت سے بھی دریغ نہیں کر رہا ہے۔دوسری جانب عراقی کردستان کے مقامی حکام بھی رائے عامہ کے دباؤ کے تحت شام میں دہشت گردوں کے نشانے پر آئے ہوئے کردوں کے دفاع پر مجبور ہوئے ہیں۔ شاید بعض خفیہ ہاتھ عراقی کردوں کو شام کے مسائل میں الجھا کر شام کے بحران کو عراق تک لے جانا چاہتے ہیں۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ شام کے خلاف مغرب اور عرب محاذ بھی یہ چاہتا ہے کہ شام کے ہمسایہ ممالک کے داخلی حالات بھی شام کے بحران سے متاثر ہو جائيں۔عراق کی مرکزی حکومت نے اب تک شام کے بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شام کے بحران میں مداخلت کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس کا یہ محتاط رویہ اس وجہ سے ہے کہ عراقی حکام یہ بات جان چکے ہیں کہ شام کے خلاف مغربی اور عرب محاذ نے شام کے ہمسایہ ممالک کو بھی اس بحران میں دھکیلنے اور الجھانے کے لیے کچھ خواب دیکھ رکھے ہیں۔مسعود بارزانی نے بھی شامی کردوں کے بارے میں اپنے موقف میں کافی حد تک احتیاط سے کام لیا ہے اور شامی کردوں کی آشکارا حمایت اور دفاع کو ان کے خلاف دہشت گردوں کے جرائم سے متعلق خبروں کے صحیح ہونے سے مشروط کیا ہے۔

.......

/169