اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ سر زمین وحی میں مسجد الحرام کی توسیع کا کام پورے ذوق و شوق سے جاری ہے لیکن اس توسیع میں جو اسلامی آثار کی نابودی کی گئی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ آل سعود نے ان تمام اسلامی آثار جو صدر اسلام سے اب تک باقی تھے کو کان لم یکن کر دیا ہے حتی پیغمبر اعظم(ص) کی جائے پیدائش پر بھی رحم نہیں کیا گیا۔







عالم اسلام تو صرف بات پر خوش ہے کہ حرم کی توسیع ہو گی تو زیادہ حاجیوں کو دعوت دی جائے گی لیکن اس بات پر کبھی غور نہیں کیا کہ حاجی اگر جائیں گے تو کس کا طواف کریں گے خانہ کعبہ کا یا آل سعود کے ٹاوروں کا۔



اب مکہ کے کسی گوشے سے نہ خانہ کعبہ نظر آتا ہے نہ مسجد الحرام کے منارے، صرف ایک چیز دکھائی دیتی ہے اور وہ ہے آل سعود کا یہ ٹاور جو ۶۰۰ میٹر سطح زمین سے اونچا ہے۔ اور اس پر دنیا کی سب سے بڑی گھڑی نصب ہے جس کی لمبائی اور چوڑائی ۴۳ میٹر ہے۔






شہر مکہ تو دور کی بات اگر کوہ نور اور غار حرا سے بھی خانہ کعبہ کو دیکھنے کی کوشش کی جائے تو کعبہ مشکل سے نظر آئے گا۔ لیکن یہ ٹاور آنکھوں کے سامنے ہو گا۔ ایسا لگتا ہے کہ اب مکہ کے مسلمان اسی ٹاور کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہوں گے اس لیے خانہ کعبہ کو تلاش کرنےکے لیے قطب نما کی ضرورت پڑے گی جبکہ یہ ٹاور ہر گھر سے دکھائی دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۲۴