2 اگست 2013 - 19:30
ہم شیعیان علی(ع) قدس کو ہر گز نہیں چھوڑ سکتے+تصاویر

حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ نے فلسطینی اہداف کو درپیش خطرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مسلم اور عرب ملکوں سے اپیل کی کہ فلسطین کی آزادی کو وہ اپنی پہلی ترجیح قرار دیں

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ سید حسن نصراللہ نے عالمی یوم قدس کی مناسبت سے جنوبی بیروت میں واقع سیدالشھداء کمپلکس میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے چند مہینوں بعد سات اگست 1979 کو بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) نے ایک بیان میں مستضعف قوموں خاص طور پر مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعے کو عالمی یوم قدس منائيں ۔انہوں نے کہا: رھبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بھی امام خمینی(رح) کی رحلت کے بعد اس مشن کو اپنی پوری توجہات کے ساتھ جاری رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا: امام خمینی(رہ) نے اسرائيل کی حقیقی ماہیت کوآشکارہ کیا اور اس حکومت کو کینسر کے پھوڑے سے تعبیر کیا اس لئے اسرائيل کا وجود ایک ناسور ہے اور اس ناسور کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل نہ صرف فلسطین کے لئے خطرہ ہے  بلکہ علاقے کے ملکوں کے لئے ایک عظیم خطرہ ہے ۔ بعض لوگ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل صرف فلسطین کے لئےخطرہ ہے اور اس سے لبنان ، شام ، اردن ، مصر ، عراق اور خلیج فارس اور شمالی افریقہ کے اسلامی ملکوں کو خطرہ نہیں ہے جبکہ یہ لوگوں کے ذہنوں کو منحرف کرنے کی ایک چال ہے ۔حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل نے کہا: قدس کی حمایت کرنا ہم سب کا اولین فریضہ ہے مسلمان عیسائی بلکہ تمام انسانوں کا فریضہ ہے۔ لیکن زیادہ ذمہ داری ہم عربوں پر عائد ہوتی ہے کہ ہم اسرائیل کے مقابلے میں مقاومت کریں۔حسن نصراللہ نے کہا: افسوس سے جہان عرب بجائے اس کے کہ اپنے اصلی دشمن اسرائیل کے مد مقابل صف آرا ہوں امریکہ اور مغرب کے پیروں پر پیر رکھتے ہوئے شیعوں کے مد مقابل کھڑے ہیں اور شیعوں کے خلاف پروپیگنڈے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد عرب ممالک نے جتنا سرمایہ ایران کے خلاف سازشوں پر خرچ کیا ہے اتنا اگر اسرائیل کے خلاف کیا جاتا تو فلسطین آزاد ہو گیا ہوتا۔ دنیا ساری کی فوجیں ایران کے خلاف ہم صدا ہو گئیں اور اسرائیل کے بجائے ایران کو نشانہ بنا لیا۔ حسن نصر اللہ نے کہا: کیا مصر میں اس وقت سیاسی جنگ ہے یا مذہبی؟ یمن، لیبیا اور دوسرے ممالک میں سیاسی جنگیں چل رہیں ہیں نہ مذہبی۔ عراق، شام بحرین ان تمام ممالک سیاسی جنگیں ہیں۔ لیکن دشمن ان جنگوں کو مذہبی جنگوں کا روپ دینا چاہتا ہے۔ دشمن ان جنگوں کو شیعہ سنی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت تمام مذہبی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کی ضرورت ہے، تمام مسلمانوں کو متحد ہو کر مسئلہ فلسطین کے بارے میں چارہ جوئی کرنے کی ضرورت ہے۔حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا: سب کو مل کر اسرائیل ناسور کو نابود کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اور ہمارے پاس اسے نابود کرنے کی طاقت بھی موجود ہے۔حسن نصر اللہ نے کہا: ہم شیعیان علی (ع) ہمیشہ فلسطین اور فلسطینی عوام کے ساتھ رہیں گے ہمارا محور قدس ہے ہم تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صرف مسئلہ فلسطین پر اپنی توجہات مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲