اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حجۃ الاسلام و المسلمین الحاج شیخ حسین انصاریان ۵۰ سال سے زیادہ عرصے سے معارف اسلام کے نشر و اشاعت کے میدان میں کوشاں ہیں۔ آپ کئی سالوں سے منبر اور قلم کے ذریعے قرآن اور تعلیمات اہلبیت(ع) کو لوگوں تک منتقل کر رہے ہیں۔ آپ کے دعا و مناجات میں خاص لب و لہجے اور سوز و گداز سے ایرانی مومنین بخوبی آشنا ہیں۔اہلبیت نیوز ایجنسی نے موصوف کے ساتھ امیر المومنین علی علیہ السلام کے بارے میں گفتگو کی ہے جو اپنے عزیز قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:

ابنا: پیغمبر اکرم (ص) کے علی علیہ السلام کی محبت اور ولایت کے بارے میں اس اسقدر فرمودات اور دستورات کے باوجود کیوں رحلت پیغمبر(ص) کے فورا بعد آپ پر مصائب کے پہاڑ توڑے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا؟ آپ کے سلام کا جواب نہ دینے سے لے کر، آپ کے گھر کو آگ لگانا، آپ کی زوجہ پر ظلم و ستم کرنا، فدک کا غصب کرنا، اور پھر آپ کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہو جانا آخر کار آپ کو دردناک طریقے سے شہید کر دینا یہ تمام مصائب کے طوفان!بسم اللہ الرحمن الرحیمدوران جاہلیت کی ثقافت اس قدر اُس دور کے مسلمانوں کے دلوں اور ان کی عقلوں میں رچی بسی ہوئی تھی کہ بہت سارے اسلامی منابع میں ہے کہ رحلت پیغمبر اسلام(ص) کے بعد ۱۲ مسلمان بھی، کامل مسلمان نہیں رہ گئے تھے جیسے سلمان، ابوذر، مقداد، ابورافع، ابوالہیثم بن التیہان، وغیرہ۔ لہذا حقیقی شیعہ اور مومنین انگشت شمار تھے جبکہ مخالفین، دشمن، حاسدین اور علی (ع) کا بغض و کینہ رکھنے والے بے شمار تھے۔اور اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ان مسلمانوں میں سے بہت ساروں کے رشتہ دار پیغمبر (ص) کے دور میں ہونے والی جنگوں میں علی علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے تھے لہذا اس وجہ سے بھی وہ علی علیہ السلام کی نسبت بغض و کینہ رکھتےتھے اور بعض حسد اور تکبر کی بنا پر آپ کے دشمن ہو گئے تھے۔ابنا: کیا یہی وجہ تھی کہ حضرت علی علیہ السلام نے بھی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی طرح یہ وصیت کی کہ مجھے رات کی تاریکی میں دفن کرنا تاکہ آپ کی قبر کا نشان بھی معلوم نہ ہو؟جی ہاں، امیر المومنین (ع) ان دشمنوں سے آگاہ تھے۔ آپ یہ بھی جانتے تھے کہ حتی ممکن ہے شہادت کے بعد بھی یہ لوگ (خوارج) آپ کی قبر کی بے حرمتی کریں لہذا آپ نے اپنی قبر کو مخفی رکھنے کا حکم دیا؟ابنا: کیوں ہارون رشید کے دور تک آپ کی قبر کا نشان مخفی رہ گیا جبکہ خوارج کا خطرہ تو پہلے ہی ختم ہو چکا تھا؟خوارج کا خطرہ تو ابھی تک ۱۴ سو سال گزرنے کے بعد بھی پایا جاتا ہے۔ یہ خوارج ہی کا تو ایک گروہ ہے جس نے حجر بن عدی کی قبر کی بے حرمتی کی اور اس شہید کے جنازے کو قبر سے نکال لیا۔ اس خبیث گروہ کے اگر بس میں ہو یہ وہی سلوک جو حجر کے قبر کے ساتھ کیا امیر المومنین (ع) کی قبر مطھر کے ساتھ بھی کریں!!ابنا: خوارج نے منصوبہ بنایا تھا کہ انیس رمضان کی رات کو تین افراد کا قتل کریں، علی علیہ السلام، معاویہ اور عمرو عاص، کیوں اس فہرست سے صرف علی علیہ السلام ہی نشانہ بنے؟ یہ صرف ایک اتفاق تھا یا کسی مافوق فطرت طاقت کا ارادہ تھا؟معاویہ کو قتل کرنے والے کی ضربت خطا کر گئی اور معاویہ واصل جہنم نہیں ہوا جو ایک عام بات ہے ضربت کسی کی بھی خطا کر سکتی ہے۔ عمرو عاص کسی عذر کی بنا پر اس دن مسجد میں نہیں آیا۔ لیکن ابن ملجم کی ضربت سختی سے امیر المومنین (ع) کے سر مبارک پر اثر کر گئی جو آپ کی شہادت کا باعث بنی۔ ان تین دھشتگردوں کے عمل کے پیچھے کسی مافوق فطرت طاقت کا ارادہ نہیں تھا۔ اس لیے کہ مافوق فطرت کا ارادہ صرف خیر محض سے تعلق پاتا ہے۔ اور اگر ابن ملجم کا عمل مافوق فطرت ارادے کی بنا پر انجام پایا ہوتا تو ایسی صورت میں وہ کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا اس لیے کہ اس نے مجبورا یہ کام انجام دیا۔ جبکہ ایسا نہیں ہے یہ کام خود قاتل کے ارادہ و اختیار سے ہوا اور اس کا یہ عمل تاریخ کا سب سےبڑا گناہ قرار پایا اور ابن ملجم اس عمل کے ذریعے اشقی الاشقیاء ہو گیا۔ابنا: بعض یہ کہتے ہیں کہ ابن ملجم کا امیر المومنین (ع) کو شہید کرنے کا باعث قطام یا قطامہ نامی عورت سے عشق تھا جیسا کہ سیریل امام علی (ع) میں بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن حقیقت تو کچھ اور ہونا چاہیے۔ علی (ع) کس گناہ کی وجہ سے شہید ہوئے؟قطامہ ملعونہ کی داستان اور ابن ملجم کا اس سے عشق اور یہ کہ یہ عشق سبب بنا کہ ابن ملجم امیر المومنین (ع) کو شہید کرے زیادہ قابل قبول اور معتبر بات نہیں ہے۔ سب سے پہلا شخص جس نے اس داستان کو گڑھا ایک عیسائی رائٹر ’’جرجی زیدان‘‘ تھا جس نے کوشش کی اس بے نظیر انسان کی شہادت کو ایک افسانوی شکل دے دے۔ اس داستان کو جعل کرنے کے پیچھے بنی امیہ کا ہاتھ اور سقیفہ کے پروپیگنڈے تھے۔ابنا: سقیفہ کے کیا پروپیگنڈے تھے؟وہ پروپیگنڈے جو رسول اسلام (ص) کے روز وفات ہی اعتقادی، سیاسی اور سماجی طور پر شروع گئے تھے اور انہیں پروپیگنڈوں کے نتیجے میں ۴۰ ہجری کو تاریخ اسلام میں یہ ناگوار واقعہ وجود میں آیا اور مولا علی بن ابی طالب (ع) کی شہادت واقع ہوئی۔جن وجوہات نے عالم اسلام کو امیر المومنین (ع) کے مقدس وجود سے محروم کر دیا وہ بعدِ پیغمبر مسلمانوں کے درمیان وجود پانے والے عقیدتی اور سیاسی انحرافات تھے نہ کوئی عشقی مسئلہ۔ علی علیہ السلام کا قاتل ۳۰ سال سے ہر اعتبار سے منحرف ہو چکا تھا انہی سقیفائی پروپیگنڈوں کے ذریعے۔ابنا: ایک معروف مولف نے لکھا ہے: قُتِل علی في المحراب لش

دة عدله ؛ علی علیہ السلام اپنی سخت عدالت کی وجہ سے محراب عبادت میں شہید ہوئے۔ کیا عدالت انسان کی فطرت کا تقاضا نہیں ہے؟ پھر کیوں ایک ایسے انسان کو شہید کر دیا گیا جس نے ساری زندگی قیام عدالت میں صرف کر دی؟پیغمبروں اور ائمہ (ع) کے دور کا سماج عدالت کو اتنی آسانی سے قبول نہیں کر تھا۔ انبیاء اور ائمہ (ع) کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ سماج میں عدالت قائم کریں چاہے انہیں زحمتیں اٹھانا پڑیں یا شہید ہونا پڑے۔ زحمتیں اٹھانے یا شہید ہو جانے کے خوف سے یہ کبھی بھی قیام عدالت سے دستبردار نہیں ہو سکتے تھے۔لہذا امام علی علیہ السلام کے دور کا سماج بھی جنگ جمل، جنگ صفین اور نہروان کو وجود میں لا کر آپ کی ولایت قبول کرنے سے منکر ہو گیا اور عدالت قائم کرنے کی راہ میں آپ کے سامنے رکاوٹ کھڑی کر دی۔ یہی اسباب ایک گروہ کے اندر آپ کی نسبت بغض و کینہ ایجاد ہونے کا باعث بنے جنہوں نے بعد میں آپ کی شہادت کا زمینہ فراہم کیا۔اسی وجہ سے پہلے بھی میں نے عرض کیا کہ حضرت علی(ع) صرف ابن ملجم کی تلوار سے شہید نہیں ہوئے بلکہ آپ عدالت مخالف رچائی گئی ایک سازش کے تحت شہید ہوئے۔ اسی لیے جب آپ کے قاتل پر لعنت بھیجی جاتی ہے تو مفرد کا صیغہ استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہیں: "اللهم العن قتلة امیرالمؤمنین" یعنی خدایا امیر المومنین کے قاتلوں پر لعنت کر نہ ایک قاتل پر۔ابنا: عدالت مخالف سازش رچانے والوں کے سرکردہ بنی امیہ اور معاویہ وغیرہ ہی تو تھے؟جی ہاں، امیر المومنین (ع) ان لوگوں کی حکومتوں کے دوران مسلمانوں پر ظلم کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔ بنی امیہ کے مظالم خاص طور پر معاویہ کے مظالم۔ بنی امیہ پہلے اور دوسرے خلیفہ کے دور میں کچھ اسلامی مناطق پر قبضہ جما چکے تھے لیکن امام علی (ع) اس سلسلے کو مزید آگے بڑھائے جانے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد معاویہ نے تمام اسلامی مناطق تک اپنی استبدادی سلطنت کا دائرہ بڑھا دیا۔ اور اپنی خام خیالی کے مطابق امیر مومنان کی عدم موجودگی میں وہ جو چاہے کر سکتا تھا۔ابنا: یہ جو امیر المومنین (ع) کے مسجد کوفہ مین ضربت کھانے کے بعد لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ کیا علی بھی مسلمان تھے اور نماز پڑھتے تھے جو مسجد میں شہید ہوئے؟ کیا یہ چیز بھی اسی عدالت مخالف سازش کا ہی نتیجہ تھی؟جی ہاں، دشمنوں نے مسلمانوں کے بیت المال کو امیر المومنین (ع) کے خلاف تبلیغ پر خرچ کر کے عوام الناس کے درمیان آنحضرت کو اس طرح سے پیش کیا تھا کہ گویا آپ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا نعوذ باللہ۔ عوام تو ان حقائق سے بے خبر تھے۔ دشمنوں کی مولا کے خلاف تبلیغ کافی موثر ثابت ہوئی اور جو لوگ آپ کی شخصیت کو اسلام سے دور سمجھتے تھے انہیں جب آپ کی مسجد میں ہوئی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے تعجب کیا۔ابنا: اگر آپ اجازت دیں تو گفتگو کے دوسرے مرحلے میں امیر المومنین (ع) کے متعلق پائے جانے والے چند شبہات بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔بالکل۔

ابنا: حضرت علی (ع) بارہا کہہ چکے تھے کہ ’’ ابن ملجم میرا قاتل ہے‘‘۔ پس کیوں آپ (ع) نے خود کو اس کے شر سے نہیں بچایا؟ حتی بعض روایات میں ہے کہ آپ نے اپنے قاتل کو جو مسجد میں سو رہا تھا نماز کے لیے جگایا!کوئی بھی اپنی حتمی موت کے وقت سے آگاہ نہیں ہے، کوئی نہیں جانتا کہ کس طرح سے اس کی موت ہو گی مگر یہ کہ خدا یا اولیاء خدا اسے باخبر کریں۔ لیکن جب خدا کسی کو اس کی حتمی موت کی خبر دے تو یہ ہر گز ٹل نہیں سکتی۔ لہذا امیر المومنین (ع) پر کوئی شرعی تکلیف نہیں تھی کہ آپ اپنی شہادت سے بچنے کے لیے ابن ملجم کا پہلے ہی قتل کر دیتے۔علاوہ از ایں، اسلامی تعلیمات میں جرم سے پہلے قصاص جائز نہیں ہے۔ لہذا امام معصوم (ع) کسی کو بھی اس جرم کے بدلے میں سزا نہیں دے سکتا جس کا وہ ابھی مرتکب نہیں ہوا ہے۔ابنا: بعض روایات میں ہے کہ انیسویں شب کو جب نماز صبح کے لیے حضرت علی (ع) اپنی بیٹی کے گھر سے مسجد کی طرف نکلے تو گویا پوری کائنات آپ کو مسجد میں جانے سے روکنا چاہتی تھی، صحن خانہ میں مرغابیوں نے راستہ روک لیا، دروازے کے تالے نے مولا کی عبا کا دامن پکڑ لیا، آسمان رنگ بدلنے لگا۔۔۔کیوں پوری کائنات یہ کوشش کر رہی تھی کہ مولا کا راستہ روک لیں؟ کیا جمادات اور حیوانات شعور رکھتے ہیں جو ایسا کر رہے تھے؟قرآن کریم کی آیات کے مطاب