ابنا: ڈیرہ اسماعیل خان میں سینٹرل جیل پر مسلح دہشتگردوں نے حملہ کر دیا۔ دہشتگردوں نے بھاری اسلحے کا استعمال کر تے ہوئے جیل سے قیدی چھروانے کی کوشش کی اور 60 سے زیادہ بم دھماکے کئے۔ کئی گھنٹے فائرنگ کے بعد شہر میں فوج طلب کر لی گئی اور کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ اس وقت فوج کی نگرانی میں آپریشن جاری ہے۔ جیل پر حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے، اور کہا ہے کہ اس حملے میں 100 سے زائد حملہ آوروں نے حصہ لیا جس میں متعدد خود کش حملہ آور بھی شامل ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سرکاری زرائع کے مطابق فرار ہونے والے 6 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات خالد عباس کا کہنا تھا کہ اندھیرے کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں تاہم یہ جیل پاکستان کی محفوظ ترین جیلیوں میں سے ایک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے اور محاصرے کی وجہ سے قیدیوں کے فرار ہونے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ ان کے مطابق جیل کو توڑا نہیں جا سکا اور جیل سے کوئی قیدی فرار نہیں ہوا، سرکاری زرائع کے مطابق دہشت گرد جیل کے قریب بستی میں چھپے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی سینٹرل جیل صوبے کی تیسری بڑی جیل ہے جس میں 5000 قیدی موجود ہیںجن میں سے 250 قیدیوں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ جیل سے کتنے قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں تاہم 3 قیدیوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
29 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 446649
ڈیرہ اسماعیل خان میں سینٹرل جیل پر مسلح دہشتگردوں نے حملہ کر دیا۔