شہادت امیر المومنین علی علیہ السلام کے سلسلے میں مدرسہ عروۃ الوثقیٰ میں منعقد مجلس سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام و المسلمین سیّد جوّاد نقوی نے کہا: قرآن پاک بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہدایت کا ایک منشور ہے۔ دور حاضر میں ہمارا قرآن سے رابطہ ہدایت کی غرض سے نہیں رہا بلکہ ہماری قرآن مجید سے وابستگی میں دیگر عناصر زیادہ موجود ہیں ۔مثلاًقرآن مجید سے فال نکلوانا، مردوں کو بخشوانا وغیرہ جیسی چیزوں کے لئے تو رابطہ کیا جاتا ہے لیکن قرآن مجید کی طرف ہدایت کی کتاب کی غرض سے کم ہی رجوع کیا جاتا ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ایک مکمل نظام ہدایت مقرر فرمایا ہے اور اس نظام ہدایت کا مرکز حکومت کو قرار دیا ہے۔ حکومت الہیٰ کا قیام انسانی ہدایت کے لئے از حد ضروری ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ غیر الہیٰ حکومتیں اپنی عوام کی خوشحالی اور سعادت کی کوشش کرتی ہوں اور اس کوشش میں کامیاب بھی ہوتی ہوں لیکن حکومت الہٰی کا اصل مقصد محض لوگوں کو خوشحالی اور سعادت پہنچانا نہیں ہے بلکہ اس کے قیام کا اصل مقصد لوگوں کو ہدایت پہنچانا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایک الٰہی حکومت کے قیام پر ذور دیا ہے۔اس کائنات کا حاکم مطلق محض اللہ تعالیٰ ہےاور حاکمیت الٰہی اس کے بعد آتی ہے۔حکومت الٰہی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حاکم مطلق ہونے کی بنا پراپنے انبیاء اور اولیاء کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کی ہدایت کی خا طر اس روئے زمین پر حکومت الٰہی قا ئم کریں۔
حکومت الٰہی کا قیام انبیاؑء 'اولیاء'اوصیاء'ائمہ معصومینؑ'اور پھر امتوں کے واجبات میں سے ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کے اندر حکومت الٰہی کی مفصل داستان بیان کی ہے۔اللہ تعالیٰ نےسابق انبیاء کوحکم دیا کہ وہ حکومت الٰہی قائم کریں اور انبیاء نے مسلسل کوشش کی ہے ہمیشہ قیام حکومت الٰہی کے لئے۔اور بہت سارے ایسے حاکم اللہ تعالیٰ نے بنائے بھی ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے طالوت کو حاکم بنایا تاکہ وہ اپنی ملت کو نجات دلائے۔ قرآن مجید قوموں کی نجات کے لئے اس داستان کے ضمن میں بہت سادہ سا حل پیش کرتا ہےکہ کس طرح نوجوانوں کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نجات کے اسباب پیدا کرتا ہے اگر انہیں خدا کے قوانین پر ایمان ہو۔اور وہ استقامت اور ثبات قدم دکھانے والے ہوں تو اللہ تعالیٰ ایک چھوٹے سے گروہ کو اکثریت پر غلبہ عطا کر دیتا ہے۔لیکن یہی ملت اگر ٹھیکیداروں (ملاح) کے سپرد کر دی جائےتو وہ قوم ذلیل و رسوا ہو کر رہ جاتی ہے لیکن جس قوم کے جوان ہوشیار اور بیدار ہوں وہ اگرچہ تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں اپنی ملت کی نجات کا باعث بن سکتے ہیں۔ جس طرح قرآن مجید میں طالوت کا واقعہ بیا ن کیا گیا ہے کہ کس طرح نوجوانوں کے ایک چھوٹے سے گروہ نے اپنی قوم کو غلامی سے نجات دلوائی۔ ان نوجوانوں میں ایک نام جناب داؑود کا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مقام نبوت اور پھر حکومت عطا کی۔اور ان کے فرزند جنا ب سلیمانؑ کو ایک عظیم تر حکومت عطا کی گئی۔
اسی طرح سورۃ مبارکہ آل عمران جو کہ قرآن کا تیسرا سورۃ ہے اس کی آیت نمبر 26میں ارشاد ہواکہ:اے رسول ان سے کہہ دیجیے کہ آپ خدا سے طلب کریں اور آپ خدا کو مالک الملک کے نام سے پکاریں اور اللہ جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔عام طور پر اس آیت سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایک گروہ سے حکومت لے کر کسی دوسرے گروہ کو عطا کر دیتا ہے جیسے پیپلز پارٹی سے حکومت لے کر مسلم لیگ نواز کو دے دی ۔لیکن آیت کا یہ ترجمہ اور معنیٰ غلط ہے۔اس آیت کا اصل مفہو م یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنا ت کا اصل مالک اور حاکم ہےاور دوسرا نکتہ یہ ہے کہ خدا کائتات کے اندر حکومت کا بھی مالک ہے یعنی اس زمین پر حکومت بھی حق خدا ہے۔ اب اللہ کی طرف سے جو حکومت قائم ہوتی ہے وہ حکومت الٰہی ہوتی ہے اور لوگ جو خود سے حکومت بنا لیتے ہیں وہ طاغوطی حکومت کہلاتی ہےجیسے مغلوں کی حکومت یا اس وقت کی موجودہ حکومتیں جو کہ اللہ کی مرضی کے بجائے لوگوں کے ووٹوں کے ذریعے قاتم ہوتی ہیں۔ مذکورۃ بالا آیت سے یہ بات واضح ہے کہ حاکمیت خاص اللہ کے لئے ہےاوراللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ اس زمین پر حکومت قائم کر نے کے کچھ قوا نین اور ضابطے ہیں۔ایک قانون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق حکومت عطا کرتا ہے اور مشیت کے تقاضے کی بنا پر حکومت واپس لے لیتا ہے یعنی حکومت کا ملنا اور نہ ملنا سب اللہ کی مشیت اور ارادہ کے تابع ہےاور اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس کی حکمت کے تابع ہے، یعنی حکومت خدا وہاں دیتا ہے جہا ں اس کی حکمت کا تقاضہ ہوتا ہے۔جو لو گ اللہ کی راہ میں قدم اٹھا تے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں حکومت دے دیتا ہے اور جو لو گ اللہ کی راہ میں قدم نہیں اٹھا تے اللہ کی حکمت کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں حکومت نہ دے۔
جس طرح امیرالمومنین حضر ت علی ؑ نے اپنی حکومت کے دور میں اپنے اصحا ب اور سپہ سالارو ں کے رویے پر تبصرہ فرمایا ہے۔ حضر ت علیؑ کے سا تھ فوج کا ایک بڑا طبقہ سست لوگوں کا تھا جن سے آپ بہت تنگ تھے، ان میں ایک طبقہ خوارج کا بھی تھا ۔امیرالمومنین ؑ کے دور حکومت میں یمن میں ایک حادثہ پیش آیاجس میں بوثر ابن ابی ارطاط نے امیرالمونین ؑکے علاقے یمن میں دہشت گردی کی کاروائی کی۔ یہ شخص شامی تھا ۔ اس نے دہشت گردی کی کاروائی میں بہت ظلم کیا اور اس کی دہشت گردی کی کاروائی سے گھبرا کر وہاں کا گورنر بھاگ کرامیرالمومنینؑ کے پاس آگیا اور وہ دہشت گرد کاروائی کر کے وہا ں سے چلا گیا ۔اس موقع پر حضر ت علیؑ(ع) نے اپنی فوج کو مسجد کوفہ میں جمع کر کے ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ بوثر نے یمن میں دھشتگردانہ کاروائی کی ہے لیکن اس کا رد عمل تم میں سے کسی نے نہیں دکھایا۔ بجائے اس کہ کے وہ بوثر کو روکتے وہ یمن سے جلوس نکالتے گریہ کرتے امیرالمومنین ؑ کے پاس آگئے جس پرامیرالمومنیؑن کو غضب آ گیا اور انہوں نے اس مقام پر ایک خطبہ ارشاد فرمایاکہ:خدا کی قسم مجھے یقین ہے کہ یہ شامی تم سے حکومت چھین لیں گے کیونکہ ان کے اندرچار صفات ایسی ہیں جو تم میں موجود نہیں حالانکہ تم حق پر ہو اور وہ باطل پر ہیں۔ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ متحد ہیں اور ان میں اتحا د و اتفاق موجو د ہے۔ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ باطل پر ہونے کے باوجود اپنے امام کے مطیع اور فرماں بردار ہیں۔ان کی تیسری صفت یہ ہے کہ وہ امانت دار ہیں ،ان کے پاس اگر چوری کی چیز بھی ہو تو وہ اس میں خیا نت نہیں کرتے۔ان کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے ویران مرکز آباد کرتے ہیں۔ان کےمدرسے ،مسجدیں ،چھاونیاں سب آباد ہیں۔
امیرالمومنین ؑ نے پھر اپنی فوج سے فرمایا کہ تمہارے اندر چار صفا ت ایسی ہیں کہ تم سے حکومت چھین لی جائے گی گو کہ تم حق پر ہو۔ تمہا ری پہلی صفت یہ ہے کہ تم میں اتحا د و اتفاق نہیں ہے۔ دوئم یہ کہ تمہا را امامؑ حق ہے لیکن تم اپنے امام حق کے نافر مان ہو۔ تمہاری تیسری صفت یہ ہے کہ تم اما نتو ں کا خیال نہیں رکھتے اور ہر چیز میں خیانت کرتے ہو ۔اور تمہاری چوتھی صفت یہ ہے کہ تمہا رے مراکز ویرا ن ہیں۔
حضر ت علیؑ نے فرمایا کہ شامیوں میں یہ چار صفات ایسی ہیں کہ شامی تم سے حکو مت چھین لیں گےاور تم میں یہ چار صفا ت ایسی ہیں کہ تم سے حکو مت چھن جائے گی جبکہ صورت حال یہ ہے کہ وہ باطل پر ہیں اور تم حق پر ہو۔امیرالمومنینؑ نے فرمایا کہ حکو مت انہیں نہیں ملتی جہا ں حق ہو بلکہ ان کو ملتی ہے جہا ں اتحاد ،اطاعت، امانت داری اور آبادکاری ہو۔ گو کہ حکو مت حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک راستہ بنا یا ہے اور جو قوم بھی وہ راستہ اپنائے گی اللہ اس کو حکومت دے دیگا ۔
پس اللہ کی حکومت کا قانون اس کے ارادہ کے تابع ہے اور خدا ارادہ ان کے لئے کرتا ہے جو حکو مت بنا نے کی راہ پر چلتے ہیں اور جو حکومت بنانے کی راہ پر نہیں چلتے خدا بھی انہیں حکومت نہیں دیتا کیونکہ حکمت خدا کا تقاضہ یہی ہے۔پس اس تشریح سے قانون دیگر بھی واضح ہو گیا جس میں اللہ فرماتا ہے: اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔یعنی عزت و ذلت بھی اللہ کے ارادہ کے تحت ہے۔ اور اللہ کا ارادہ اللہ کی حکمت کے مطابق ہے۔ حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ جو قوم عزت کی راہ پر چلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے عزت کا ارادہ کرتا ہے اور وہ قوم جو ذلت کی راہ پر چلے تو اللہ تعالیٰ بھی اس قوم کے لئے ذلت کا ارادہ کر لیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ایک مکمل نظام ہدایت مقرر فرمایا ہے اور اس نظام ہدایت کا مرکز حکومت کو قرار دیا ہے۔ حکومت الہیٰ کا قیام انسانی ہدایت کے لئے از حد ضروری ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ غیر الہیٰ حکومتیں اپنی عوام کی خوشحالی اور سعادت کی کوشش کرتی ہوں اور اس کوشش میں کامیاب بھی ہوتی ہوں لیکن حکومت الہٰی کا اصل مقصد محض لوگوں کو خوشحالی اور سعادت پہنچانا نہیں ہے بلکہ اس کے قیام کا اصل مقصد لوگوں کو ہدایت پہنچانا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایک الٰہی حکومت کے قیام پر ذور دیا ہے۔اس کائنات کا حاکم مطلق محض اللہ تعالیٰ ہےاور حاکمیت الٰہی اس کے بعد آتی ہے۔حکومت الٰہی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حاکم مطلق ہونے کی بنا پراپنے انبیاء اور اولیاء کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کی ہدایت کی خا طر اس روئے زمین پر حکومت الٰہی قا ئم کریں۔
حکومت الٰہی کا قیام انبیاؑء 'اولیاء'اوصیاء'ائمہ معصومینؑ'اور پھر امتوں کے واجبات میں سے ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کے اندر حکومت الٰہی کی مفصل داستان بیان کی ہے۔اللہ تعالیٰ نےسابق انبیاء کوحکم دیا کہ وہ حکومت الٰہی قائم کریں اور انبیاء نے مسلسل کوشش کی ہے ہمیشہ قیام حکومت الٰہی کے لئے۔اور بہت سارے ایسے حاکم اللہ تعالیٰ نے بنائے بھی ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے طالوت کو حاکم بنایا تاکہ وہ اپنی ملت کو نجات دلائے۔ قرآن مجید قوموں کی نجات کے لئے اس داستان کے ضمن میں بہت سادہ سا حل پیش کرتا ہےکہ کس طرح نوجوانوں کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نجات کے اسباب پیدا کرتا ہے اگر انہیں خدا کے قوانین پر ایمان ہو۔اور وہ استقامت اور ثبات قدم دکھانے والے ہوں تو اللہ تعالیٰ ایک چھوٹے سے گروہ کو اکثریت پر غلبہ عطا کر دیتا ہے۔لیکن یہی ملت اگر ٹھیکیداروں (ملاح) کے سپرد کر دی جائےتو وہ قوم ذلیل و رسوا ہو کر رہ جاتی ہے لیکن جس قوم کے جوان ہوشیار اور بیدار ہوں وہ اگرچہ تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں اپنی ملت کی نجات کا باعث بن سکتے ہیں۔ جس طرح قرآن مجید میں طالوت کا واقعہ بیا ن کیا گیا ہے کہ کس طرح نوجوانوں کے ایک چھوٹے سے گروہ نے اپنی قوم کو غلامی سے نجات دلوائی۔ ان نوجوانوں میں ایک نام جناب داؑود کا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مقام نبوت اور پھر حکومت عطا کی۔اور ان کے فرزند جنا ب سلیمانؑ کو ایک عظیم تر حکومت عطا کی گئی۔
اسی طرح سورۃ مبارکہ آل عمران جو کہ قرآن کا تیسرا سورۃ ہے اس کی آیت نمبر 26میں ارشاد ہواکہ:اے رسول ان سے کہہ دیجیے کہ آپ خدا سے طلب کریں اور آپ خدا کو مالک الملک کے نام سے پکاریں اور اللہ جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔عام طور پر اس آیت سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایک گروہ سے حکومت لے کر کسی دوسرے گروہ کو عطا کر دیتا ہے جیسے پیپلز پارٹی سے حکومت لے کر مسلم لیگ نواز کو دے دی ۔لیکن آیت کا یہ ترجمہ اور معنیٰ غلط ہے۔اس آیت کا اصل مفہو م یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنا ت کا اصل مالک اور حاکم ہےاور دوسرا نکتہ یہ ہے کہ خدا کائتات کے اندر حکومت کا بھی مالک ہے یعنی اس زمین پر حکومت بھی حق خدا ہے۔ اب اللہ کی طرف سے جو حکومت قائم ہوتی ہے وہ حکومت الٰہی ہوتی ہے اور لوگ جو خود سے حکومت بنا لیتے ہیں وہ طاغوطی حکومت کہلاتی ہےجیسے مغلوں کی حکومت یا اس وقت کی موجودہ حکومتیں جو کہ اللہ کی مرضی کے بجائے لوگوں کے ووٹوں کے ذریعے قاتم ہوتی ہیں۔ مذکورۃ بالا آیت سے یہ بات واضح ہے کہ حاکمیت خاص اللہ کے لئے ہےاوراللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ اس زمین پر حکومت قائم کر نے کے کچھ قوا نین اور ضابطے ہیں۔ایک قانون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق حکومت عطا کرتا ہے اور مشیت کے تقاضے کی بنا پر حکومت واپس لے لیتا ہے یعنی حکومت کا ملنا اور نہ ملنا سب اللہ کی مشیت اور ارادہ کے تابع ہےاور اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس کی حکمت کے تابع ہے، یعنی حکومت خدا وہاں دیتا ہے جہا ں اس کی حکمت کا تقاضہ ہوتا ہے۔جو لو گ اللہ کی راہ میں قدم اٹھا تے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں حکومت دے دیتا ہے اور جو لو گ اللہ کی راہ میں قدم نہیں اٹھا تے اللہ کی حکمت کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں حکومت نہ دے۔
جس طرح امیرالمومنین حضر ت علی ؑ نے اپنی حکومت کے دور میں اپنے اصحا ب اور سپہ سالارو ں کے رویے پر تبصرہ فرمایا ہے۔ حضر ت علیؑ کے سا تھ فوج کا ایک بڑا طبقہ سست لوگوں کا تھا جن سے آپ بہت تنگ تھے، ان میں ایک طبقہ خوارج کا بھی تھا ۔امیرالمومنین ؑ کے دور حکومت میں یمن میں ایک حادثہ پیش آیاجس میں بوثر ابن ابی ارطاط نے امیرالمونین ؑکے علاقے یمن میں دہشت گردی کی کاروائی کی۔ یہ شخص شامی تھا ۔ اس نے دہشت گردی کی کاروائی میں بہت ظلم کیا اور اس کی دہشت گردی کی کاروائی سے گھبرا کر وہاں کا گورنر بھاگ کرامیرالمومنینؑ کے پاس آگیا اور وہ دہشت گرد کاروائی کر کے وہا ں سے چلا گیا ۔اس موقع پر حضر ت علیؑ(ع) نے اپنی فوج کو مسجد کوفہ میں جمع کر کے ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ بوثر نے یمن میں دھشتگردانہ کاروائی کی ہے لیکن اس کا رد عمل تم میں سے کسی نے نہیں دکھایا۔ بجائے اس کہ کے وہ بوثر کو روکتے وہ یمن سے جلوس نکالتے گریہ کرتے امیرالمومنین ؑ کے پاس آگئے جس پرامیرالمومنیؑن کو غضب آ گیا اور انہوں نے اس مقام پر ایک خطبہ ارشاد فرمایاکہ:خدا کی قسم مجھے یقین ہے کہ یہ شامی تم سے حکومت چھین لیں گے کیونکہ ان کے اندرچار صفات ایسی ہیں جو تم میں موجود نہیں حالانکہ تم حق پر ہو اور وہ باطل پر ہیں۔ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ متحد ہیں اور ان میں اتحا د و اتفاق موجو د ہے۔ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ باطل پر ہونے کے باوجود اپنے امام کے مطیع اور فرماں بردار ہیں۔ان کی تیسری صفت یہ ہے کہ وہ امانت دار ہیں ،ان کے پاس اگر چوری کی چیز بھی ہو تو وہ اس میں خیا نت نہیں کرتے۔ان کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے ویران مرکز آباد کرتے ہیں۔ان کےمدرسے ،مسجدیں ،چھاونیاں سب آباد ہیں۔
امیرالمومنین ؑ نے پھر اپنی فوج سے فرمایا کہ تمہارے اندر چار صفا ت ایسی ہیں کہ تم سے حکومت چھین لی جائے گی گو کہ تم حق پر ہو۔ تمہا ری پہلی صفت یہ ہے کہ تم میں اتحا د و اتفاق نہیں ہے۔ دوئم یہ کہ تمہا را امامؑ حق ہے لیکن تم اپنے امام حق کے نافر مان ہو۔ تمہاری تیسری صفت یہ ہے کہ تم اما نتو ں کا خیال نہیں رکھتے اور ہر چیز میں خیانت کرتے ہو ۔اور تمہاری چوتھی صفت یہ ہے کہ تمہا رے مراکز ویرا ن ہیں۔
حضر ت علیؑ نے فرمایا کہ شامیوں میں یہ چار صفات ایسی ہیں کہ شامی تم سے حکو مت چھین لیں گےاور تم میں یہ چار صفا ت ایسی ہیں کہ تم سے حکو مت چھن جائے گی جبکہ صورت حال یہ ہے کہ وہ باطل پر ہیں اور تم حق پر ہو۔امیرالمومنینؑ نے فرمایا کہ حکو مت انہیں نہیں ملتی جہا ں حق ہو بلکہ ان کو ملتی ہے جہا ں اتحاد ،اطاعت، امانت داری اور آبادکاری ہو۔ گو کہ حکو مت حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک راستہ بنا یا ہے اور جو قوم بھی وہ راستہ اپنائے گی اللہ اس کو حکومت دے دیگا ۔
پس اللہ کی حکومت کا قانون اس کے ارادہ کے تابع ہے اور خدا ارادہ ان کے لئے کرتا ہے جو حکو مت بنا نے کی راہ پر چلتے ہیں اور جو حکومت بنانے کی راہ پر نہیں چلتے خدا بھی انہیں حکومت نہیں دیتا کیونکہ حکمت خدا کا تقاضہ یہی ہے۔پس اس تشریح سے قانون دیگر بھی واضح ہو گیا جس میں اللہ فرماتا ہے: اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔یعنی عزت و ذلت بھی اللہ کے ارادہ کے تحت ہے۔ اور اللہ کا ارادہ اللہ کی حکمت کے مطابق ہے۔ حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ جو قوم عزت کی راہ پر چلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے عزت کا ارادہ کرتا ہے اور وہ قوم جو ذلت کی راہ پر چلے تو اللہ تعالیٰ بھی اس قوم کے لئے ذلت کا ارادہ کر لیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲