ابنا: راہنماؤں نے کہا ہے کہ مقدس مہینے میں بے گناہوں کا خون بہانا اسلام کی خدمت نہیں، کون سی شریعت بے گناہ انسانوں کے قتل کی اجازت دیتی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہیں، حکومت پچاس دنوں میں دہشت گردی کے خلاف کوئی لائحہ عمل نہیں بنا سکی، دہشت گردی کے خلاف اے پی سی کے انعقاد میں تاخیر افسوسناک ہے، حکمران اور کتنے پاکستانیوں کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں اور حکومت نئی سکیورٹی پالیسی بنانے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے، چیف جسٹس قوم کو بتائیں کہ کسی ایک دہشت گرد کو بھی اب تک سزا کیوں نہیں مل سکی، ریاستی اداروں کو طالبان نواز عناصر سے پاک کرنا ہوگا، دہشت گردی کے تازہ واقعات سے مذاکرات کے حامیوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اب دہشت گردوں کے خلاف مارو یا مر جاؤ کی پالیسی اپنانا ہوگی، پوری قوم، حکومت اور اپوزیشن دہشت گردی کے خاتمے کے ایجنڈے پر متحد ہو جائے۔
.......
/169