ابنا: امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا ہے کہ پاکستان کا تعاون کبھی امریکی توقعات کے مطابق نہیں رہا ہے۔سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں دیئے گئے بیان میں جنرل ڈیمپسی کا کہنا ہے کہ مستحکم پاکستان امریکہ کے مفاد میں ہے،پاکستان سے مسلسل رابطوں کا بھی حامی ہوں۔ امریکی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے انتہا پسند گروپوں کے خلاف آپریشنز کئے جن کے ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں القاعدہ کا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے اور تمام دہشت گرد تنظیمیں القاعدہ کے سائے میں متحرک ہیں اور پاکستان کی مدد کے بغیر القاعدہ کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ امریکہ نے القاعدہ دہشت گرد تنظیم کی تاسیس کی تھی اور آج بھی امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے القاعدہ کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور امریکہ شام میں القاعدہ دہشت گردوں کی آشکارا حمایت کررہا ہے امریکہ کی القاعدہ کے بارے میں متضاد اور منافقانہ پالیسی ہے امریکہ کہیں القاعدہ کو بہانہ بنا کر دوسرے ممالک پر دباؤ قائم کرتا ہے اور کہیں خود القاعدہ کی حمایت اور انھیں ہتھیار فراہم کرتا ہے۔
.......
/169