اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین کے انقلابی عوام نے اس ملک کے مختلف شہروں میں پرامن احتجاجی مظاہرے کر کے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور ریحانہ موسوی کے ساتھ کیے گیے توہین آمیز برتاو کی مذمت کی۔مظاہرین پر آل خلیفہ کے مزدوروں نے لوگوں کو پراکندہ کرنےکے لیے زہریلی گیس اور چھرے دار گولیوں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں دسیوں افراد زخمی ہوئے۔بحرینی عوام نے گزشتہ شب افطار کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جو نماز صبح سے کچھ دیر پہلے تک جاری رہا۔ ادھر بحرین کی وزارت داخلہ نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ خمیس اور سارا سمیت اس ملک کے تمام شیعہ علاقوں میں ہر طرح کے احتجاجی اجتماعات پر پابندی ہے۔اور جس فرد یا گروہ نے اس کی خلاف ورزی کی اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔بحرین کی آل خلیفہ حکومت نے ایسے میں احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کی ہے کہ جب الرفاع علاقے کی ایک مسجد کی پارکینگ میں دو روز قبل کاربم دھماکہ ہوا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔واضح رہے کہ بحرین میں گزشتہ دنوں چار بم دھماکے ہوئے اور ان دھماکوں پر کہا جا رہا ہے کہ آل خلیفہ حکومت کی جانب سےاس ملک کے عوام کو ڈرانے دھمکانے کے مقصد سے اس قسم کے دھماکے کرائے جا رہے ہیں۔





.....
/169+242