14 جولائی 2013 - 19:30
اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بار پھر یکطرفہ کاروائی کی دھمکی دی ہے

جوہری توانائی کے پروگرام کے باعث صیہونی حکومت نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے.

ابنا: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز سی بی ایس نیوز کے قوم کا سامنا پروگرام میں کہا ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے قبل، تل ابیب ایران کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا "ہماری گھڑیاں مختلف رفتار سے ٹک ٹک کر رہی ہیں. ہم امریکہ کے مقابلے میں زیادہ قریب ہیں. ہم زیادہ غیر محفوظ ہیں اور اس وجہ سے ہمیں اس سوال کا حل نکالنا ہوگا کہ ایران کو کیسے روکا جائے، شاید امریکہ کے کچھ کرنے سے پہلے۔نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ ایران نام نہاد سرخ لکیر کے کنارے پر ہہنچ گیا ہے.نیتن یاہو نے کہا "وہ سرخ لکیر کے کنارے تک پہنچ چکے ہیں. انہوں نے ابھی تک اسے عبور نہیں کیا ہے۔واضح ہو کہ 2 ستمبر 2012 کو نیتن یاہو نے بین الاقوامی برادری سے ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام کے لئے ایک "واضح سرخ لکیر" کھینچنے کی اپیل کی تھی۔24 ستمبر کو، امریکی صدر براک اوباما نے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مسئلہ امریکہ کی قومی سلامتی کے فیصلے سے متعلق ہے، اور وہ باہر ہو رہے شور شرابے کو بند کرنے جا رہے ہیں۔امریکہ اور صیہونی حکومت نے بارہا یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو روکنے پر اسلامی جمہوریہ کو مجبور کرنے کے لئے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ واشنگٹن اور تل ابیب کا دعوی ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام میں فوجی مقاصد بھی شامل ہیں۔ایران اس طرح کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدہ (این پی ٹی) پر دستخط کرنے والے ایک ذمہ دار ملک اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ایک رکن کی حیثیت سے اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا پورا حق حاصل ہے۔اس کے علاوہ، آئی اے ای اے ایران کی جوہری تنصیبات کا متعدد بار معائنہ کر چکی ہے لیکن اسے کبھی بھی ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ جس یہ ثابت ہوتا ہو کہ ایران کے سویلین جوہری پروگرام میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی آئی ہے اور اس میں فوجی مقاصد کے استعمال کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔...../169