14 جولائی 2013 - 19:30
عراق میں قتل عام جاری، مزید 47 افراد جاں بحق

عراق میں دہشت گردانہ حملوں کی لہر جاری ہے جن میں زیادہ تر شیعہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اتوار کو کم از کم 47 افراد کے قتل عام کے ساتھ جولائی میں مرنے والوں کی تعداد 380 ہو گئی ہے۔

ابنا: مشرقی اور جنوبی عراق میں ہونے والے بم دھماکوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں سینکڑوں لوگ زخمی بھی ہو گئے.پولیس کے مطابق یہ دھماکے کربلای معلّی، ناصریہ، بصرہ، حلہ اور کوت کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں افطار سے کچھ دیر قبل ہوئے۔اتوار کو سب سے بڑا دھماکا ملک کے جنوبی شہر بصرہ میں ایک سیاسی جماعت کے صدر دفتر کے قریب ہوا اور اس میں 8 افراد مارے گئے۔اس کے علاوہ مصیب میں ایک مسجد اور ناصریہ میں ایک بازار میں دھماکہ ہوا جبکہ مقدس شہر کربلا میں بھی مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔یہ لگاتار چوتھا دن ہے کہ عراق میں بم دھماکوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ سنیچر کو بغداد میں ایک خودکش حملے اور ایک بم دھماکے میں درجنوں افراد ہلاک جبکہ 40 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔اس سے قبل جمعہ کو ملک کے شمالی شہر کرکوک کے ایک کیفے میں ہونے والے دھماکے میں 38 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔عراق میں گزشتہ چند ماہ میں تشدد میں تیزی آئی ہے اور اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق اپریل 2013 سے اب تک ڈھائی ہزار سے زیادہ عراقی مارے جا چکے ہیں۔عراق میں القاعدہ سے منسلک غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ وسیع پیمانے پر دہشت گردانہ کارروائیوں میں مصروف ہيں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی علاقائی ممالک عراق میں فرقہ وارانہ فسادات اور خانہ جنگی کرا کے ملک کی تقسیم کی سازش رچ رہے ہیں۔......./169