ولادتحضرت آیت اللہ العظمیٰ سید عبد الکریم موسوی اردبیلی نے ۱۳ ؍رجب۱۳۴۴ ھ ش کی صبح کوایک تہی دست علم دوست گھرانے میں ولادت پائی۔ آپ کے والد آقا سید عبدالرحیم اور والدہ سیدہ خدیجہ تھیں۔ آپ کے یہاں اس سے قبل آٹھ بیٹیاں پیدا ہوچکی تھیں۔ موسوی اردبیلی صاحب آخری اولاد اور اکلوتے بیٹے ہیں۔ ۱۳۴۶ ھ ش میں چیچک کے مرض میں والدہ کا انتقال ہو گیا اور بہنوں نے پرورش کی۔ آپ کی بچپن کی یادداشتوں میں سے ایک وہ خواب ہے جس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں :’’ مجھے بچپنے میں حضرت امام زمانہ ع کی زیارت کا بہت شوق تھا چنانچہ امام زمانہ ؑ سے ملاقات کے متعلق کتابوں میں جتنے اعمال مرقوم ہیں سبھی کو بجا لاتا تھا یہاں تک کہ مستحبات پر بھی عمل کرتا تھا ایک رات میں نے آپ کو خواب میں دیکھا میں نے ایک بچے کے مانند ان کے دامن کو تھام لیا۔ ان کے قدموں پر گر پڑا اور عرض کی مجھے کچھ عطا کیجئے۔ آپ نے اپنی انگشت مبارک سے ایک فیروزہ کی انگوٹھی اتار کر میری انگلی میں پہنا دی جب میں نے والد صاحب سے یہ خواب بیان کیا تو انھوں نے کہا اب مجھے تمہاری طرف سے کوئی فکر نہیں ہے کیونکہ تم امام زمانہ ؑ کے سایہ میں رہو گے ‘‘۔خاندان کی مالی، مذہبی اور سیاسی حالتآپ کے والد ایک با عمل عالم تھے، اپنی اولاد کی مذہبی طریقہ سے تربیت کرنا چاہتے تھے اور اس سلسلہ میں مصر رہتے تھے ۔ اس زمانہ میں ایران میں رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی وہ اپنے برطانوی آقاؤں کی پیروی میں ہر روز طاقت و وحشت کے زور پر سیاست چلاتا تھا ۔ ایک روز اتحاد شکل کے عنوان سے لوگوں کے لباس اور ٹوپی کو بدل دیا۔ دوسرے دن بے پردگی کا اعلان کر دیا۔ ایک زمانہ میں مجلس عزاداری اور وعظ و خطابت کے جلسوں پر پابندی لگا دی۔ اس کے بعد عالم کا لباس پہننے پر پابندی لگاکر علماء کے ساتھ سختی کرنے لگا۔ اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے علماء خانہ نشین ہو گئے اور صبر و انتظار کی سیاست پر عمل پیرا ہو گئے۔ بعض نے لباس بدل دیا اور صف علماء سے نکل گئے اور دوسرا پیشہ اختیار کر لیا۔کچھ لوگوں نے مقاومت کی، سختیاں اور تکلیفیں برداشت کیں، کبھی چھپ کر اور کبھی علی الاعلان مقابلہ کیا مرحوم میر عبدالرحیم انھیں افراد میں سے تھے۔آپ پہلوی حکومت کے مظاہر کو خلاف شرع اور حرام قرار دیتے تھے۔ اس طرز تفکر کے نتیجہ میں آپ پر دباؤ بڑھ گیا اس صورت حال کے تحت کبھی آپ کو مہینوں گھر ہی پر رہنا پڑتا تھا اور صرف ضروری کاموں کی انجام دہی کے لیے رات میں گھر سے نکلتے تھے اور جلدی واپس لوٹ آتے تھے۔ اس زمانہ کے حالات اتنے بھیانک تھے کہ چند دوستوں اور جاننے والوں کے علاوہ کوئی ان کے گھر آنے کی جرأت نہیں کرتا تھا ۔ اس صورت حال کے نتیجہ میں مفلسی اور ناداری بڑھتی چلی گئی، بعض شب و روز تک اہل خانہ کو کھانا میسرنہیں ہو تا تھا۔ ستمبر ۱۹۴۱ ء کو روس نے ایران پر حملہ کر دیا اور آذربائیجان میں داخل ہو گیا ۔ رضاپہلوی ایران سے بھاگ گیا۔ اگر چہ ایران کے حالات آشفتہ تھے لیکن عوام کو سکون مل گیا اور علماء پر جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں ان میں کچھ کمی آگئی نتیجہ میں آپ کے خاندان والوں کی آمد و رفت سے پابندی اٹھ گئی ۔تعلیم کا آغازحضرت آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی نے چھ سال کی عمر سے مکتب میں داخل ہو کر تعلیم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ قرآن مجید تمام کرنے کے بعد رسالۂ عملیہ، گلستان، تاریخ عجم، درایۂ نادری، تاریخ وصاف، حساب، فارسی اور دوسری کتابیں بھی اساتذہ سے پڑھیں ۔۱۳۱۸ ھ ش میں عربی کی تعلیم شروع کی ۔۱۳۱۹ ھ ش میں حوزہ علمیہ کی اعلی تعلیم کے حصول کے لئے اردبیل میں واقع مدرسۂ علمیۂ ملا ابراہیم میں داخل ہوئے۔ اس زمانہ میں اردبیل میں تین دینی مدرسے، مدرسۂ مرزا علی اکبر، مدرسۂ صالحیہ اور مدرسۂ ملا ابراہیم تھے۔ پہلا پرائمری اسکولمیں تبدیل ہو گیا تھا ، دوسرے میں قفقاز کے ایرانی مہاجرین کو ٹھہرا دیا گیا تھا، صرف مدرسۂ ملا ابراہیم طلباء کی تعلیم کے لئے باقی بچا تھا۔ اس زمانہ میں کسی کو دینی تعلیم حاصل کرنے کا شوق نہیں تھا چنانچہ اس مدرسہ میں صرف چار طالب علم تھے ۔ ایسے بحرانی حالات میں آپ نے دینی تعلیم کا آغاز کیا اور اسی مدرسہ میں۱۳۲۲ ھ ش تک جامع المقدمات، سیوطی، جامی، مطول، حاشیۂ ملا عبداللہ، شرح تہذیب، معالم اور شرائع تمام کرلی ۔ایران میں متحدہ روس کے داخل ہوجانے سے لوگوں کو حکومت کے ظلم و ستم سے نجات مل گئی تھی اور جوانوں میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق بڑھ گیا تھا۔ چنانچہ بہت سے جوان دینی و حوزوی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدرسۂ ملا ابراہیم میں داخل ہوگئے۔ ان جوانوں اور بانشاط طلباء کے داخل ہوجانے کی بنا پر آپ نے حوزوی علوم کی ابتدائی کتاب صرف، نحو اور منطق کا درس دینا شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ شہر اردبیل کے مضافات میں بیس سال تک رضاخانی حکومت کی وجہ سے جو عقائد اور تہذیب و تمدن کی دنیا میں خلأ پیدا ہو گیا تھا اسے پر کرنے کی غرض سے مواعظ اور تقاریر کرتے رہے۔شہر قم میں تشریف آوریحضرت آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی نے۱۹۴۳ ء کے رمضان المبارک میں یہ طے کیا کہ قم ہجرت کرکے وہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ چنانچہ اسی مہینہ کے آخر میں اردبیل سے روانہ ہو کر قم آگئے اور مدرسۂ فیضیہ میں اقامت گزیں ہوئے۔ تین سال تک قم ہی میں قیام پذیر رہے۔ اس زمانہ میں آپ نے لمعتین، رسائل، مکاسب، کفایتین تمام کی اور درس خارج، تفسیر قرآن اور فلسفہ کے درس میں شرکت کے ساتھ ہی معالم، لمعتین اور قوانین کا درس بھی دیتے رہے۔اس زمانہ میں آپ نے حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیدمحمد رضا گلپایگانی سے کچھ مکاسب اور کفایہ جلد اول، آیت اللہ العظمیٰ حاج سید احمد خوانساری سے مکاسب بیع، کفایہ جلد دوم اور شرح ہدایۂ میبدی اور آیت اللہ العظمیٰ حاج شیخ مرتضی حائری سے رسائل، آیت اللہ حاج مہدی مازندرانی سے منظومہ، آیت اللہ سید محمد حسین طباطبائی سے اسفار کا درس لیا۔ مزید برآں آپ نے کبھی بھی معارف اسلام کی ترویج سے غفلت نہیں کی ۔ آپ نے تبلیغ کے زمانہ میں ایران کے مختلف علاقوں میں مجالس کو خطاب کیا۔ اور اپنی مذہبی تقریروں کے ذریعہ معاشرہ میں نشاط اور معنویت کی روح پھونکتے رہے۔جس زمانہ میں حوزۂ علمیہ قم کے زعیم آیت اللہ العظمیٰ حجت کوہ کمرہ ای، آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری اور آیت اللہ صدرالدین اصفہانی تھے اور شہر کے علماء کے امور آیت اللہ فیض اور آیت اللہ روحانی کے ذریعہ حل ہوتے تھے اس زمانہ میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی،حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید محمد رضا گلپایگانی، حضرت آیت اللہ العظمیٰ حاج شیخ محمد علی عراقی (اراکی )اور حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید محمد داماد قدس اللہ اسرارہم، دوسرے درجہ کے علماء شمار ہوتے تھے۔ اور حوزوی دروس کی اعلیٰ سطح کی تدریس کرتے تھے۔ اسی زمانہ میں حوزۂ علمیہ قم کے بعض علماء نے یہ طے کیا کہ حوزۂ علمیہ کی ترقی کے لئے آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کو قم دعوت دی جائے۔ ان کی مسلسل کوششوں سے وہ قم تشریف لائے اور درس دینے لگے ۔آپ نے حوزۂ علمیہ میں ہر طریقہ سے چار چاند لگائے۔ اس زمانہ میں ایران پر غیروں کے حملہ کرنے کی وجہ سے ملک کی اورخاص طور سے قم کی سیاسی حالت بحران کا شکار تھی ۔دوسری طرف آذربائیجان میں روسی فوج کی موجودگی کی بنا پر آذری لوگوں کی مدد کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور آذری طلباء تنگدستی میں مبتلا ہوگئے۔ اس بحران کے زمانہ میں آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالحسن اصفہانی کا نجف اشرف میں انتقال ہو گیا۔ آپ کے انتقال سے دنیائے شیعیت خصوصا ایران کو شدید جھٹکا لگا ۔ ایران کی حکومت آپ کی رحلت کو اہمیت دے کر ایک طرف تو اپنے مخالفوں کو کمزور کرنا چاہتی تھی اور دوسری طرف حوز ۂعلمیہ نجف اشرف کو قم منتقل کرنے کی کوشش کررہی تھی کہ ہو سکتا ہے نمایاں علماء سے فائدہ حاصل کرکے ملک کی سیاسی صورت حال کو مستحکم بناسکے۔اس مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے محمد رضا پہلوی نے آیت اللہ العظمیٰ اصفہانی کے انتقال کے موقع پر آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کے نام تعزیت کا ٹیلی گرام بھیجا ۔ اس عمل سے حوزۂ علمیہ کی بڑھتی ہوئی قدرت ظاہرہوئی۔ یہ الگ بات ہے کہ پہلوی نظام بعد میں ایسے ایسے اشتباہات سے پیدا ہونے والے خطرات کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے اس کے برخلاف اپنی پوری طاقت صرف کی۔ مگر علماء اور حوزات علمیہ کی روز افزوں محبوبیت و اقتدار کو نہ روک سکا ۔ایک طرف آیت اللہ العظمیٰ بروجردی نمایاں علمی شخصیت اور دوسری طرف حکومت وقت کی سیاسی بے طرفی اور حوزۂ علمیہ قم کو مستحکم بنانے کے سلسلہ میں فضلاء کی کوششوں کے باعث ہر طرف سے طلباء و علماء قم آنے لگے۔ حوزۂ علمیہ نجف نے اپنے سابقہ اطمینا ن کو محفوظ رکھا ۔ وہاں کے علمی ماحول کو پرسکون قرار دیا جاتا تھا۔ آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی اس زمانہ میں علم کے تشنہ تھے۔ اور تعلیم و تدریس کے لئے پرسکون و مناسب جگہ کی تلاش میں تھے اس کے لئے آپ نے نجف اشرف کو مناسب پایا اس لئے نجف کی طرف رخ کیا۔نجف اشرف میں تشریف آوریحضرت آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی نے حوزۂ علمیہ قم کے تین فضلاء کے ساتھ نجف اشرف جانے کا پروگرام بنایا ۔ دو افراد نے ارادہ ترک کردیا تو آپ شیخ ابوالفضل حلال زادۂ اردبیلی کے ساتھ پہلی ذی الحجہ۱۳۶۳ ھ ق کو قم سے روانہ ہوئے۔ چونکہ اس زمانہ میں کوئی قانونی طور پر عراق کا سفرنہیں کر سکتا تھا وہاں جانا بہت مشکل تھا ۔ مجبورا خفیہ طور پر خرم شہر کے راستے سے عراق کے شہر بصرہ میں داخل ہوئے۔ بے پناہ مشکلات اور سختیاں اٹھانے کے بعد بصرہ، عباسیہ اور دیوانیہ سے ہوتے ہوئے خدا کے لطف و کرم سے اسی سال سات ذی الحجہ کو عصر کے وقت حوزۂ علمیہ نجف اشرف پہنچ گئے۔ آنے والی رات شب عرفہ تھی لہذا دونوں ہم سفر ابتدائی امور انجام دینے کے بعد حوزۂ علمیہ نجف اشرف کی دیرینہ سنت کے مطابق اسی شب کربلا کے لئے روانہ ہو گئے۔اور پھر دو روز بعد نجف اشرف واپس آگئے اور تعلیم کا آغاز کیا۔موصوف نجف اشرف میں قیام کے زمانہ کو حصول تعلیم کا بہترین زمانہ سمجھتے ہیں۔ طلباء کے لئے کافی حد تک امن و سکون فراہم تھااور طلباء پڑھنے پڑھانے اور تحقیق کے علاوہ اور کوئی کام انجام نہیں دیتے تھے۔ آپ بھی جوش و ولولہ کے ساتھ اس عہد کے حوزۂ علمیہ کے بڑے اساتذہ کے دروس میں شریک ہوئے۔ اور ان کے خرمن علم سے خوشہ چینی کے ساتھ حوزۂ علمیہ کے دروس میں پیش آنے والے علمی مسائل کی علمی تحقیق میں مشغول ہوئے اور اساتذہ کے دروس کو قلمبند کر لیا۔نجف اشرف میں علمی کاوشیںحضرت آیت اللہ العظمیٰ موسوی اردبیلی نے نجف اشرف میں قیام کے دوران اصول فقہ کے مباحث قطع و ظن، برائت و اشتغال اور کچھ الفاظ کی بحث اورعلم فقہ میں اعادۂ صلاۃ ، اوقات، قبلہ، لباس مصلی و مکان مصلی، خلل صلاۃ و شروط صلاۃ تا آخر مکاسب آیت اللہ العظمیٰ خوئی سے اور بحث طہارت کو آخر وضو تک مرحوم آیت اللہ العظمیٰ حکیم سے اور اجتہاد و تقلید کی بحث آیت اللہ میرزا عبدالہادی شیرازی سے اول کتاب بیع کو مرحوم آیت اللہ العظمیٰ میلانی سے ، بیع صبی کو مرحوم آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد کاظ
13 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 440606