اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ مصرمیں معزول صدر مرسی کی بحالی کےلئے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہےاور مظاہرین نے وزارت دفاع کے سامنے دہرنا دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامی وزارت دفاع کےسامنے جمع ہیں اور وہ مرسی کی بحالی کیلئے نعرے لگا رہے ہیں جبکہ فوج نے وزارت دفاع کی سکیورٹی سخت کر کے صدارتی محل کی جانب جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا ہے. اخوان المسلمین نے فوجی بغاوت کے خلاف کل جمعہ کو ملک بھر میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے تھے۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے پلےکارڈ اٹھارکھے تھے جن پرفوج اور جمہوریت پسندوں کےخلاف نعرے لکھے ہوئے تھے۔مصر کی آزادی وعدالت پارٹی کی مرکزی کونسل کے رکن یاسرحمزہ نے محمدمرسی کی معزولی کو آئین کے خلاف فوجی بغاوت سے تعبیرکیاہے۔یہ موقف ایسے عالم میں سامنے آیا ہے جب مصر کے عبوری صدر اخوان المسلمین اورآزادی وانصاف پارٹی کوحکومت میں شامل ہونے پر راضی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہاں تک کہاجارہا ہے کہ مصرکے عبوری صدر کی جانب سے سینئرشخصیتوں کورابعۃ العدویہ اسکوائر پرجانے اور اخوان المسلمین کے رہنماؤں سے گفتگوکرنے کےلئے بھیجاجارہا ہے لیکن اخوان المسلمین مصر کےقانونی صدر مرسی کی حکومت بحال کرنے کی ضرورت پرتاکیدکررہے ہيں ۔ مصرکی اخوان المسلمین نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کےمطالبات پورے نہيں ہوتے، وہ مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔اس موقف کے مقابلے میں مصر کی فوج اور عبوری صدر ، اخوان المسلمین کاقلع قمع کرنے پرکمربستہ ہیں۔مصر کےاٹارنی جنرل نے ابھی حال ہی میں پچیس جنوری دوہزارگیارہ کے انقلاب کے دوران مرسی سمیت النظرون جیل کےتمام قیدیوں کےفرار کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔عدالتی ذرائع نے بھی اعلان کیا ہے کہ مصر کےاٹارنی جنرل نے محمدمرسی پر اپنے دورصدارت میں عدالت کی توہین کاالزام لگایاہے۔یہ الزامات ایسے عالم میں سامنے آئے ہيں کہ اٹارنی جنرل نے اخوان المسلمین کےرہنما محمدبدیع اور اس تحریک کے نو دوسرے رہنماؤں پر تشددکوھوا دینے کاالزام لگایا ہے۔ان حالات میں ایسی رپورٹیں بھی سامنےآئی ہیں کہ بعض عرب ممالک نے مصرکی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اخوان المسلمین کےاراکین کواپنے ملک سےباہرنکالناشروع کردیا ہے۔کویت کےالسیاسیہ جریدے نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کےرکن ممالک ، ایک سیکورٹی معاہدے کےتحت اخوان المسلمین کےاراکین کی شناخت کررہے ہيں اوران کاپتہ لگا کرانھیں ملک سے باہرنکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔خلیج فارس تعاون کونسل کےرکن ممالک ایسے عالم میں اخوان المسلمین کےاخراج کا ایجنڈہ تیارکئےہوئے ہيں کہ اس کونسل کےرکن بعض ممالک نے مصر کےموجودہ حکمرانوں کومالی مدد دے رہے ہيں۔متحدہ عرب امارات کےالخلیج جریدے نے لکھا ہے کہ سعودی بادشاہ عبداللہ نے منگل کو مصر کےنئےحکمرانوں کوپانچ ارب ڈالرمالیت کی مدد دینے کافرمان جاری کردیا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کی قومی کونسل کے سیکورٹی مشیر نے مصر کے عبوری صدر عدلی منصور سے ملاقات میں اپنے ملک کی جانب سے قاھرہ کوتین ارب ڈالر کی مالی امداد دیئے جانے کےفیصلےکی خبردی۔ مصرکے سابق صدر کی معزولی پرلبنانی روزنامے الاخبار نے سعودی عرب اور امریکہ کو مرسی کی سرنگونی کا ذمہ دار قراردیا ہے۔ان عرب ممالک کی جانب سے مصر کوپیش کی جانےوالی مالی امداد سےپتہ چلتا ہے کہ یہ ممالک نہ صرف یہ کہ مصر کی صورت حال سے خوش نہیں ہیں بلکہ وہ چاہتے ہيں کہ اس ملک کےبعض مالی مسائل حل کرکے فوج اورعدلی منصور کی پوزیشن مضبوط بنائیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ ایک لبنانی اخبار و الاخبار نے سعودی عرب اور امریکہ کو مرسی کی سرنگونی کا ذمہ دار قراردیا ہے۔اس تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف منصفانہ موقف قابل غور ہے جس میں اس نے اس پرآشوب دور میں جب مسلمان ممالک کے حکمراں مصر میں اسلامی بیداری کے نتیجے میں آنے والی اخوان المسلمین کی حکومت اورخود اخوان المسلمین کوبرداشت کرنے کےلئے تیار نہيں ہیں، مصر میں تعمیری موقف اختیارکرنے اور جمہوری حکومت کے قیام میں تعاون کا مطالبہ کیا ہے اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان جناب عباس عراقچی نے کہا ہے کہ علاقائی ملکوں کو چاہیئے کہ مصر میں جمہوری حکومت کی برقراری کے عمل میں تعاون کریں۔ انھوں نے مصر کی موجودہ صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی ملکوں کو چاہیئے کہ اس سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ صلاح و مشورے سے تعمیری مواقف اختیار کریں۔



















