ابنا: لبنان کےسیکورٹی ذرائع کےحوالے سے لکھا ہے کہ دہشتگرد تکفیری گروہ شام کےمختلف علاقوں بالخصوص القصیر کے اسٹریٹیجک علاقے میں شامی فوج کے ہاتھوں منہ کی کھانے کے بعد غیرقانونی طریقے سے لبنان میں داخل ہوکر اس ملک کےمختلف علاقوں میں تعینات ہورہے ہيں۔اس رپورٹ کےمطابق ان میں سےاکثرالنصرہ دہشتگرد گروہ سے وابستہ ہیں اورانھوں نے لبنان میں داخل ہونے کےبعداس ملک کےمشرقی علاقوں کی چوٹیوں پر پوزیشن سنبھال لی ہے۔جبکہ لبنان کےسیکورٹی ذرائع نے بدہ کواعلان کیاکہ منگل کے دن جنوبی بیروت میں ہونےوالےدھماکوں کا تعلق اس دہشتگرد گروہ کی تعیناتی سے ہے۔جنوبی بیروت کےمضافاتی علاقے بئرالعبد میں دہشتگردانہ کاروائی ایسےعالم میں ہوئی ہے کہ گذشتہ ہفتے الحقیقہ نیوزایجنسی نے ایک برطانوی ذریعے کےحوالے سے بتایا کہ شامی دہشتگردوں کے لبنان میں داخل ہو تے ہی حزب اللہ لبنان کے اجتماعی ٹھکانوں کو دہشتگردانہ حملوں کا نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ دہشتگردانہ کاروائیاں ضاحیہ ، بعلبک ، اور حزب اللہ لبنان کے زيراثرتمام علاقوں میں ہوں۔یہ ایسےعالم میں ہے کہ منگل کےدن جنوبی بیروت میں ہونےوالےحملوں کی بڑے پیمانے پرمذمت ہورہی ہے شام میں سلفی وہابی تکفیری گروہ ہی نے ان دھماکوں کا خیرمقدم کیا ہے یہاں تک وہابی نامہ نگار الموتورحکم البابا نے بیروت کےضاحیہ اورشام کےعلوی نشین علاقوں کوپوری طرح نابود کردینے کامطالبہ کیا ہے۔تجزيہ نگاروں کاخیال ہے کہ شام میں اردن، سعودی عرب ، قطر ، ترکی اورامریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کےسیناریو کی ناکامی کےبعد شام مخالف اس محاذ نے شام ميں سرگرم ان دہشتگردوں کو لبنان میں بھیجنا شروع کردیا ہے اور اس طرح لبنان کے اقتداراعلی کو نقصان پہنچانے اور اس ملک میں اختلاف پیدا کرنے کےلئے نئی مہم جوئی شروع کردی ہے۔ ان حالات میں دشمنوں کی سازشوں کےمقابلے میں پائداری واستقامت کاواحد راستہ لبنان کےسیاسی گروہوں اور عوام کے درمیان داخلی اتحاد کومضبوط بنانا ہے۔جبکہ حزب اللہ لبنان پہلے ہی یہ ثابت کرچکی ہے کہ وہ بحران شام کےسلسلے میں موقف اختیارکرنے کی بھاری قیمت چکانے سےکبھی بھی پیچھے نہيں ہٹےگی اور یہ اچھی طرح جانتی ہے کہ اسے اس موقف کی بنا پربھاری قیمت چکانی پڑےگی۔یہی وہ موضوع ہے جس کی جانب حزب اللہ لبنان کےسربراہ سیدحسن نصراللہ نے اپنےبیانات میں اشارہ کیا ہے اور تاکید کی ہے کہ انھیں شام ميں حزب اللہ کے کردار اور استقامت کےاصلی محور نیز لبنان پرامریکیوں کےدوبارہ تسلط کامقابلہ کرنے میں حزب اللہ کےکلیدی کردار پربعض ردعمل کا اندازہ پہلے سےہی ہے۔لیکن حقیقت امریہ ہے کہ حزب اللہ لبنان کےخلاف ہونےوالے ردعمل کااصلی سبب صیہونی حکومت کےسامنے اس کی استقامت ہے جسے حزب اللہ لبنان نےاسرائیل کا بارہا مقابلہ کرکے اور اسے دھول چٹا کر ثابت بھی کیا ہے اورشام میں حزب اللہ کےکردار اداکرنے کی وجہ بھی یہ ہے کہ شام صیہونی حکومت کےسامنےمقاومت کی فرنٹ لائن پر ہے۔شام اورحزب اللہ سے مغرب اوراس کےعرب آلہ کاروں کی دشمنی کی بنیاد بھی یہی ہے۔......./169
10 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 439521
شام کےمختلف علاقوں میں تکفیری گروہوں کی ناکامی کےبعد اب انھیں لبنان کے قومی اقتدار اعلی کو نقصان پہنچانے کے لئے لبنان بھیجا جارہا ہے۔