اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہلسنت کی بزرگترین مذہبی یونیورسٹی الازھر نے سلفی مفتی یوسف قرضاوی کے ۳۰ جون سے متعلق فتوے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یہ ایسے شخص کا فتویٰ ہے جو دین کے نام پر قتل عام کو جائز سمجھتا ہے۔ الازھر نے۳۰ جون کے بارے میں شیخ قرضاوی کی باتوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے تاکید کی: قرضاوی کے فتووں سے، آمریت اور ظلم و استبداد کی بو آتی ہے۔مصر کی اس دانشگاہ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا: شیخ قرضاوی کا فتویٰ صرف ان لوگوں( اخوان المسلمین) کے نظریات کی عکاسی کرتا ہے جن کی وہ حمایت کرتے ہیں۔شیخ قرضاوی کہ جنہیں اخوان المسلمین کا معنوی پدر کہا جاتا ہے نے اپنے بیان میں ۳۰ جون کو مصر کے معزول صدر محمد مرسی کی برطرفی کو فوج کی بغاوت قرار دیتے ہوئے کہا: وزیر دفاع سردار عبد الفتاح السیسی کی رہبری میں کچھ ایسے عناصر نے مرسی کو حکومت سے برکنار کیا ہے جو مصری قوم کے نمائندے نہیں ہیں۔واضح رہے کہ ۳۰ جون کو مصر کے لاکھوں افراد نے حکومت کے خلاف مظاہرے کر کے عبد الفتاح السیسی اور شیخ الازھر کی رہنمائی میں محمد مرسی کو حکومت سے برکنار کر دیا تھا۔ ................242
9 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 439074
اہلسنت کی بزرگترین مذہبی دانشگاہ نے وہابی مفتی یوسف قرضاوی کے ۳۰ جون کے بارے میں فتوے کو خود غرضی اور ظلم و استبداد پر مبنی قرار دیتے ہوئےاس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔