7 جولائی 2013 - 19:30
مرسی حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں شدت، دسیوں جانبحق اور زخمی+تصاویر

قاہرہ؛ جھڑپوں میں شدت، ۳۴ افراد جانبحق اور ۳۰۰ سے زائد زخمی/ قاہرہ میں اخوان المسلمین کا دفتر بند/ مرسی کو فوج نے نہیں بلکہ 20 ملین مصری عوام نے برطرف کیا: البرادعی/ امارات کا ایک وفد پہلی مرتبہ مصر روانہ ہوگا/ امریکہ کا اخوان المسلمین کو فوجی بغاوت تسلیم کرنے کامشورہ

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ مصر میں محمد مرسی کی برطرفی کے بعد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گزشتہ ۲۴ گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں دسیوں افراد جانبحق اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔مصر میں پیش آنے والے گزشتہ ۲۴ گھنٹوں کے حالات کی رپورٹ:قاہرہ؛ جھڑپوں میں شدت، ۳۴ افراد جانبحق اور ۳۰۰ سے زائد زخمیقاہرہ میں ریپبلکن گارڈزکے ہیڈ کواٹرز کے قریب فوج اور مرسی کے حامیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد اخوان المسلمون نے عوام سے پورے جوش و خروش کے ساتھ مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دارالحکومت قاہرہ میں محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں نے وزارت دفاع کی اس عمارت کا گھیراؤ کیا جہاں برطرف صدر کو نظر بند رکھا گیا ہے، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے  سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شیلنگ کی گئی جس سے وہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی ، صورت حال کو مزید بگڑتا دیکھ کر  سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ۳۴ افراد ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے. دوسری جانب مصری افواج کا کہنا ہے کہ مظاہرین  کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد  اہلکار فائرنگ پر مجبور ہوئے۔قاہرہ میں اخوان المسلمین کا دفتر بندمصر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فوجی حکام نے قاہرہ میں اخوان المسلمین کا دفتر بند کردیا ہے۔ مصر کی سکیورٹی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ قاہرہ میں اخوان المسلمین کی سیاسی شاخ کے  دفتر سے ہتھیار برآمد ہوئے ہیں جس کے بعد اس دفتر کو بند کردیا گيا ہے۔مرسی کو فوج نے نہیں بلکہ 20 ملین مصری عوام نے برطرف کیا: البرادعی بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سابق سربراہ اور مصر کی الدستور پارٹی کے رہنما محمد البرادعی نے جرمن میگزین ڈیئر اشپیگل کے ساتھ گفتگو میں مصر کے صدر مرسی کو برطرف کرنے کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرسی کو فوج نے نہیں بلکہ مصری عوام نے ہٹایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوج کا اقدام بغاوت نہیں تھا بلکہ فوج نے 20 ملین افراد کی آواز کو سنکر منطقی قدم اٹھایا اور مصری فوج کو عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کی پشتپناہی حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ محمد مرسی نے اپنے اقتدار کا غلط اور ناجائز فائدہ اٹھایا اس نے عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائي کی، اس نے اخوان المسلمین کے افراد کو کلیدی پوسٹوں پر پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا، مرسی نے مصری عوام کے انقلابی نعروں کو بالکل فراموش کردیا۔ برادعی نے کہا کہ اخوان المسلمین مصری معاشرے کا حصہ ہیں لیکن انھیں اپنے عقائد دوسروں کے سر تھونپنے کی اجازت نہیں دی جائے گي۔ انھوں نے کہا کہ محمد مرسی نے گذشتہ ایک سال کے دوران اقلیتوں کے حقوق کو پامال کیا اور مصری عوام کی بین الاقاومی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔امارات کا ایک وفد پہلی مرتبہ مصر روانہ ہوگا مصر کے صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد متحدہ عرب امارات کا ایک وفد پہلی مرتبہ مصر کے دورے پر روانہ ہوگا۔ امارات نے مرسی کی برطرفی پر خوشی و مسرت کا اظہار کیا تھا۔ امارات نے اخوان المسلمین کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کررکھی ہے۔واضح رہے کہ امارات کے بادشاہ شیخ خلیفہ بن آل نہیان نے جمعرات کے دن مصر کے عبوری صدر عدلی منصور کو مبارکباد کا پیغام ارسال کیا تھا اور محمد مرسی کی برطرفی پر خوشی و مسرت کا اظہار کیاتھا۔امریکہ کا اخوان المسلمین کو فوجی بغاوت تسلیم کرنے کامشورہاخوان المسلمین کے بعض ذرائع نے کہا ہےکہ امریکہ نے اخوان المسلمین کے سینئر رہنماوں سے رابطہ کرکے فوجی بغاوت تسلیم کرنے کامشورہ دیا ہے۔پرپس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اخوان المسلمین کے ایک سینئر رہنما نے نام نہ بتائے جانے کی شرط پر کہا ہےکہ امریکی سفارتکاروں نے اخوان المسلمین کے سینئر رہنماوں سے رابطہ کرکے کہا ہےکہ فوجی بغاوت تسلیم کرلیں اور ملک کے سیاسی عمل میں سرگرم کردار ادا کریں۔اس ذریعے نے کہا کہ امریکہ یہ چاہتا ہےکہ اخوان المسلمین فوجی بغاوت کو قانونی لحاظ سے تسلیم کرلے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیالیس تک پہنج گئ ہے جن میں پینتیس افراد کا تعلق مرسی کے حامیوں سے ہے۔ ادھر وہابی پارٹی کے حکومت سازی کے مذاکرات سے نکلنے سے حالات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔نور پارٹی نے البرادعی کو وزیر اعظم کے طور پر قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ادھر مصر کی عدالت نے سابق حکمران پارٹی کے بعض رہنماوں سے توہین عدالت کے الزام میں باز پرس شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔دریں اثنا   اخوان المسلمین نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہےکہ وہ اپنی حکومت کی قانونی حیثیت پر کوئی معاملہ نہیں کرےگی۔ اس پارٹی نے اپنے بیان میں صدر مرسی اور آئین کے بحال کئےجانے کا مطالبہ کیا ہے۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲