اہلبیت(ع)نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ مصر کی اسلامی یونیورسٹی الازھر کے سربراہ شیخ احمد الطیب نے اہل تشیع پر کفر کے فتوے لگانے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا: جب ایسے افکار ہم پر غالب ہو جائیں گے تو ہم عرب عربی ثقافت اور مسلمان اسلامی تعلیمات سے دور ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا: آج ہمیں پوری دنیا کے اندر مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ وہ (دشمن) ہمارے لیے ایسے پروپیگنڈے تیار کرتے ہیں تاکہ مسلمان قومیں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں۔ تمام اسلامی فرقوں کے درمیان اتحاد اہم اور ضروری امر ہے جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے اور اس کے بغیر ہم سرخرو نہیں ہو سکتے۔احمد الطیب نے شیعوں پر لگائے جانے والے بعض الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا: ہم شیعوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور جیسا کہ ان پر تہمت لگائی جاتی ہے کہ ان کا قران دوسرا ہے، ایسا نہیں ہے ان کا بھی یہی قرآن ہے۔ اگر شیعوں کا کوئی اور قرآن ہوتا توآخر سامنے آتا۔ الازھر کے سربراہ نے مزید تاکید کی: شیعہ و سنی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ ہم انہیں اسلام سے خارج کریں۔انہوں نے کہا: الازھر کا بنیادی مقصد اجتھادی مسائل میں اختلافات کےباوجود امت اسلامیہ کے اندر اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنا ہے۔شیخ الطیب نے شیعوں کے اہم مراکز مخصوصا نجف اشرف کا سفر کرنے کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا:میں انشاء اللہ عنقریب نجف اشرف کا سفر کروں گا اور شیعوں کے پیچھے نماز پڑھوں گا میں شیعہ اور سنی سب کا معنوی باپ ہوں۔قابل ذکر ہے کہ مصر کے سلفی وہابیوں کی طرف سے شیعوں پر متعدد حملات کے نتیجے میں اس ملک میں فرقہ واریت کی آگ پھیل چکی ہے جس کا ایک نمونہ شہر الجیزہ میں علامہ شیخ شحاتہ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
6 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 437884
مصر کی اسلامی یونیورسٹی الازھر کے سربراہ نے اہل تشیع پر کفر کے فتوے لگانے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا: جب ایسے افکار ہم پر غالب ہو جائیں گے تو ہم عرب، عربی ثقافت اور مسلمان اسلامی تعلیمات سے دور ہو جائیں گے۔