6 جولائی 2013 - 19:30
مظاہروں کےدوران کابینہ کی تشکیل کی کوششیں تیز

ایسے عالم میں جب معزول صدر مرسی کے حامی انھیں منصب صدارت پر واپس لانے کےلئے مظاہرے کررہے ہيں مصر کےعبوری صدر عدلی منصور کابینہ تشکیل دینے کےلئے مختلف جماعتوں سے صلاح ومشورہ کررہے ہيں۔

ابنا: مصر کےسیاسی ذرائع کےمطابق عدلی منصور نے عبوری دور میں فوج کے روڈ میپ کے بارے میں سیاسی گروہوں سے گفتگو کی ہے اور اس سلسلے میں کچہ سمجھوتے بھی ہوئے ہيں ۔ ان سمجھوتوں میں ایک آئندہ تین مہینے کےاندرصدارتی انتخابات کاانعقاد ہے ۔صحافتی حلقوں نے بھی مصر کےعبوری صدر اور بعض سیاسی شخصیتوں کےدرمیان وزارت عظمی کےعہدے کےبارے میں بات چیت کا ذکر کیا ہے۔  محمدمرسی کی اصلی مخالف پارٹی قومی نجات محاذ کے اہم رہنما اور لیبرل شخصیت کےحامل محمدالبردعی کووزیراعظم بنائےجانے کی بھی خبریں سامنےآرہی ہيں ۔اگرچہ اس خبر کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے  لیکن الدستور پارٹی کی صدارت سے البرادعی کا استعفی اور پریزیڈنٹ ہاؤس میں عبوری صدر عدلی منصور سے ان کی ملاقات، عبوری دور میں ان دونوں کےدرمیان تعاون کاعکاس ہے۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ مصر ، انقلاب کےبعد ایک نئےمرحلےميں داخل ہوگیا ہے ایک ایسا مرحلہ جومرسی اوراخوان المسلمین کی صدارت وحکومت کےدور سے مختلف ہے۔  مصر کےعبوری دور اور اس کےبعد کےحالات کےبارے میں قیاس آرائیاں اس نظریے کی تائید کرتی ہیں کہ اس ملک میں سیاسی میدان میں فوج اورلیبرل طاقتوں کے درمیان اتحاد دیکھنے میں آئےگا۔ باالخصوص ایسی حالت میں کہ عمروموسی اور البرادعی جیسے قوم پرست اور کہنہ مشق سیاستدانوں نے مصرکےحالیہ واقعات اور سیاسی میدان میں فوج کی واپسی کاخیرمقدم کیا ہےاورگذشتہ دنوں لیبرل گروہوں اور نئے مصری حکمرانوں کےدرمیان مسلسل تعاون بھی رہا ہے۔  اس بیچ اسلام پسندگروہوں نے بھی اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہيں ۔ انھیں یہ تشویش ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ پھر مصر کےسیاسی میدان سےالگ کردیئےجائيں ۔ اگرچہ مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ اخوان المسلمین بھی آئندہ انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے لیکن اخوان المسلمین کو یہ فکر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حسنی مبارک کے دور کے مانند اخوان المسلمین کو دوبارہ عوامی خدمات اورغیرسیاسی کاموں تک محدود نہ کردیاجائے۔  اس ماحول میں اخوان المسلمین اوراس تحریک کےحامی مصرکی سڑکوں پرنکل کرسیاسی میدان میں اپنی موجودگی کی ضرورت پر تاکیدکررہے ہیں اوریوں وہ مصر کےنئےحکمرانوں کویہ پیغام دیناچاہتے ہيں کہ اخوان المسلمین کو مصرجدید کےسیاسی میدان سے حذف نہيں کیا جاسکتا۔  مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ مصرایک نئے راستے پرچل پڑا ہے اوراس سے ایسانظرآتا ہے کہ اس کےبعد مختلف افکار ونظریات کی حامل پارٹیوں اورگروہوں کےدرمیان ٹکراؤ ہوگا جو اس ملک کی موجودہ صورت حال کاماحصل ہوگا۔  بالخصوص ایسی حالت میں جب حزب النور جیسے کچہ گروہوں نے کابینہ اور سرکاری عہدوں کے لئے عدلی منصور کےبعض انتخاب  پراعتراض کیا ہے اور فوجی حکمرانوں کےسامنےمحاذ اختیارکیا ہے۔  .....  /169