5 جولائی 2013 - 19:30
اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے

برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام میں کسی بھی طرح کے فوجی مقاصد پائے جانے کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور زور دے کر کہا ہے کہ اس طرح کے دعوے کے اثبات کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہے۔

ابنا: برطانوی سرکاری نشریاتی ادارے بی بی سی پر ٹی وی مباحثے میں جیک اسٹرا نے کہا کہ نہ تو آئی اے ای اے (انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی) کے پاس کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی امریکیوں کے پاس یہ کہ ایرانی جوہری بم بنانے میں مشغول ہیں۔  2010 ء میں برطانیہ کے نائب وزیر اعظم کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے اسٹرا نے2007 میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس این آئی ای کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں میں ملوث نہیں ہے۔  واضح ہو کہ 16 امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون سے تیار کی گئی این آئی ای کی رپورٹ میں پورے اعتماد کے ساتھ اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اسی طرح کی ایک رپورٹ 2011 میں بھی شائع کی گئی تھی۔  بحث کے دوران ایک موقع پر، ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام کے بارے میں ایک مباحث کی جانب سے بے بنیاد الزامات پر اصرار کے جواب میں اسٹرا نے پوچھا، کیا ایران کے پاس جوہری بم ہے؟ اور اس بات کا ثبوت کہاں ہے؟  اسٹرا نے 14 جون کو ایران کے صدارتی انتخابات میں فتح حاصل کرنے والے صدر حسن روحانی کے انتخاب کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اب ہمارے پاس ایران کے ساتھ باہمی تعلقات کو سازگار بنانے کا ایک موقع ہے اور اس کے لیے ہماری حکومت کو پوری کوشش کرنی چاہیے۔  یاد رہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام میں غیر سویلین مقاصد کے بے بنیاد الزامات لگا کر تہران پر غیر قانونی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔  تہران نے سختی سے ان بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور تاکید کی ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا پورا حق حاصل ہے۔ ......./169