ابنا: ورلڈ بولیٹین کی رپورٹ کے مطابق صلح و جہموریت نامی پارٹی نے ایک بیان میں کردوں کے مسائل حل کرنے کی غرض سے انقرہ پر دباو ڈالنے کے لئے مظاہروں کی کال دی ہے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ پی کے کے گروہ کے ترکی سے نکل جانے کے بعد اب حکومت کو کردوں کے مسائل حل کرنے چاہیں جو کہ کل آبادی کا بیس فیصد حصہ ہیں۔ صلح و جمہوریت پارٹی کے مطابق یہ مظاہرے کل اتوار سےشہر دیار بکر سے شروع ہونگے۔ ترکی میں کردوں کی زیادہ تر آبادی میڈیٹرینین شہروں مرسین اور آدانا میں ہے ۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گيا ہےکہ حکومت انقرہ جنوب مشرقی ترکی میں واقع فوجی اڈے سے بھی دستبردار ہوجائے۔ ترکی میں کردوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، کردی زبان کی سرکاری سطح پر تعلیم دی جائے اور پارلیمنٹ کی سیٹ حاصل کرنے کے لئے ووٹوں کے حد نصاب میں دس فیصد کمی کی جائے۔ ترکی کے کردوں نے اپنے رہنما اوجالان کی رہائي کا بھی مطالبہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
28 جون 2013 - 19:30
News ID: 435122
ترکی میں کردوں کی حامی پارٹی نے تین اہم شہروں میں مظاہروں کی کال دی ہے۔