ابنا: ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، 26 جون کو مقبوضہ علاقے میں جنگی مشقوں کا دورہ کرنے گئے نیتن یاہو نے صیہونی فوجیوں سے کہا کہ ماضی کے بر عکس یہ جنگی مشقیں جو ہم یہاں کر رہے ہیں تخیلاتی نہیں ہیں۔
صیہونی فوجی امور کے وزیر موشے یالون اور فوجی چیف آف اسٹاف بینی گانٹز گولانی بریگیڈ کی جنگی مشقوں کا معائنہ کرنے پہنچے نیتن یاہو کے ہمراہ تھے۔ جنگی مشقوں میں فوجیوں کی کارکردگی، ٹینکوں اور فوجیوں کو لے جانے والی بکتر بند گاڑیوں کا استعمال بھی شامل ہے۔
یالون نے بھی کہا کہ گولانی بریگیڈ اور دیگر اسرائیلی فورسز کی جنگی یونٹوں کو آمادہ رہنا چاہیے کیونکہ جلدی ہی انہیں اس سلسلے میں حکم جاری کیا جا سکتا ہے۔
صیہونی اہلکار نے کہا کہ یہ مشقیں اس وقت اور اس جگہ کے اعتبار سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔
حالیہ دنوں میں تل ابیب حکومت کی جانب سے شام کی مقبوضہ گولان پہاڑیوں کے علاقے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
گزشتہ مہینوں میں شام کی سرزمین پر کئے جانے والے کئی فضائی حملوں میں صیہونی حکومت کا کردار رہا ہے۔
غور طلب ہے کہ شامی فوج کے ہاتھوں القاعدہ سے منسلک عسکریت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچنے کے بعد 5 مئی کو صیہونی فوج نے شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقے میں واقع جمرایا ریسرچ سینٹر پر تین روز کے اندر دوسری بار فضائی حملہ کیا تھا۔
6 جون کو شام میں سلفی دہشت گردوں نے مختصر مدت کے لیے شام اور گولان کی پہاڑیوں کے درمیان واقع قنیطرہ کراسنگ پر قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم شامی فوج نے فورا کارروائی کر کے علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
اسرائیل اور اس کی حامی مغربی ممالک اور ان کے دیگر علاقائی اتحادی شام میں دو سال سے بھی زیادہ مدت سے دہشت گردوں کی کھلی حمایت کر رہے ہیں۔
.......
/169