25 جون 2013 - 19:30
یہ تحریک بیداری کی تحریک ہے  تنظیم نہیں: علامہ جواد نقوی

ہم سب بیداری امت، بیداری اسلامی اور بیداری دینی کے خادم ہیں اور ہم نے اس بیداری کے نتیجے میں اس ملت کو مصائب، مشکلات اور سختیوں سے نجات عطا کرنی ہے

علامہ جواد نقوی نے اپنے حالیہ خطاب میں بیداری اسلامی کے بارے میں  کہا: یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ ہم سب بیداری امت، بیداری اسلامی  اور بیداری دینی کے خادم ہیں اور ہم نے اس بیداری کے نتیجے میں اس ملت کو مصائب، مشکلات اور سختیوں سے نجات عطا کرنی ہے۔
امیرالمومنینؑ کا فرمانا ہے کہ انسان کی جہالت کے لئے یہی کافی ہے کہ اسے اپنی قدر و قیمت معلوم نہ ہو ۔ اپنی قدروقیمت معلوم ہونا انسان کی معرفت میں سے ضروری معرفت ہے کہ اسے خود پتہ ہو کہ میری قیمت کیا ہے۔ قیمت کا معیار بھی امیر المومنین نے بتا دیا ہے کہ ہر انسان کی قیمت اس کے عزم، ارادے اور ہمت کی مقدار میں ہے ۔ جتنا انسان کا مقصد اعلی ہوگا، اتنی ہی انسان کی قیمت  بلند تر ہوگی ۔ اور جتنا  مقصد انسان کا پست ہوگا اتنی ہی قدروقیمت انسان کی گھٹیا اور کم ہوگی۔
انہوں نے فرمایا کہ بیداری امت مصطفی کے مقاصد اور اہداف اور وہ لوگ جو اس کے لئے کام کر رہےہیں اور چونکہ میدان  بہت عالی ہے ، اس کے لئے ہمیں اپنی قدروقیمت سے آشنا  ہونا ضروری ہے اور یہ پہلا نکتہ ہے۔ اسکے لئے جو عنوان ہےجس کا ہمیں مصداق بننا ہے  اور ہمیں اس قابل اور لائق قرار دینا ہے  وہ  ہے "فاتحین  راہ خدا"۔جس طرح قرآن مجید میں خد ا  کا وعدہ ہے سورۃ النصر میں   ۔۔
إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ   وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا  فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
انہوں نے کہا کہ "فتح" کا ہم ہندی معنی کرتے ہیں ۔ ہم  فتح کا معنی جیت ،وکٹری  یا غلبہ سمجھتے ہیں، جبکہ یہ صحیح معنی نہیں ہے۔ فتح کا  صحیح معنی  ہے "کھولنا" جیسے مفتاح الجنان جس کا معنی ہے جنت کی چابیاں۔  فتح  بند راہوں کو کھولنے کا نام ہے ۔ راہ خدا کو کھولنے کے لئے فدایان کی ضرورت ہوتی ہے جو فدا کاری کے ذریعے  راہ خدا کو کھولتے ہیں  جس کے نتیجے میں لو گ لشکر لشکر، فوج فوج دین خدا میں داخل ہو جاتے ہیں۔ قرآن مجید  کہتا ہے کہ لوگوں کو دین کی طرف آنا ہے ، مگر آج جماعتوں کی جماعتیں  اور گروہوں کے گروہ  دین خدا اور نظام الہی کو ترک کر کے شیطانی نظام اور شیطانی سسٹم کی طرف جا رہے ہیں، اگرچہ بعض اوقات دین کے نام پر کر رہے ہیں لیکن حقیقتاً دین سےدور اور دین خدا سے باہر جا رہے ہیں۔ لیکن دین کی طرف آنے کے لئے میدان چاہئے ، وہ میدان جب تک ہموار نہیں ہوتا ، اسوقت لوگ دین خدا کی طرف نہیں آئینگے۔اس وقت عملی طور پر لوگوں کو رخ دین سے مڑا ہوا ہے۔  ہمارے بہت سارے سسٹم خواہ دین کے نام پر ہوں یا نہ ہوں یہ اصل میں عباد خدا اور مخلوق خدا کو دین خدا اور راہ خدا سے ہٹانے کے لئے بنائے گئے ہیں۔  یہ مصداق ہیں  "الذین یسدون عن سبیل الله"  یعنی جو خدا کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، سد کرتے ہیں ، ان رکاوٹوں کو ہٹانا اور بند راستے کھولنا  "فتح "کہلاتا ہے۔
نصر اس چیز کو کہتے ہیں  جو کسی رکی ہوئی چیز کو حرکت دے ۔عربی زبان میں میں اس کا معنی  یوں کیا جاتا ہے کہ  وہ  پانی جو صحراؤں میں بارش کی وجہ سے جوہڑ کی صورت میں گھڑوں اور کھڈوں میں جمع ہو جاتا ہے اور پہاڑوں سے اور اونچائیوں سے ایک سیلابی ریلا آئے جو اس رکے ہوئی پانی کو اپنے ساتھ بہا کر آگے لے جاتا ہے  اسے نصر کہتے ہیں ۔ رکا ہوا پانی گندا ہو جاتا ہے ، پینے یا کسی اور استعمال کے قابل نہیں ہوتا ۔ وہ پانی جو سیلابی ریلے کی شکل میں اونچائیوں سے  نشیب کی طرف حرکت کرتا ہے اس میں طغیانی ہوتی ہے  اور بہت زیادہ قوت و طاقت ہوتی ہے۔ یہ حرکت جو اس رکے ہوئی پانی کو بہا کر اپنے ساتھ لے جاتی ہےاس کو عربی زبان میں "نصر"کہتے ہیں ۔
یہ دو کام   یعنی نصر اور فتح جس سرزمین و قوم پر عملی ہوجائیں  اس کے بعد سارے لوگ فوج فوج لشکر لشکر دین خدا کی طرف آنا شروع ہوجائینگے۔یعنی ایک یہ کہ بند راہیں کھول دی جائیں اور دوسرا  یہ کہ ایک ایسا سیلابی ریلا پیدا ہو جو رکے ہوئے پانی کو بہا کر اپنے ساتھ لے جائے اور اس میں بھی حرکت ایجاد کر دے۔ اس رکے ہوئے پانی میں بھی طغیانی اور طلاطم اور موج  ایجاد کر تے۔ یہ فتح او رنصر درحقیقت دریضے ہیں اس طبقے کے لئے جو ہر سرزمین پر بند راہوں کو کھولنے کے لئے نکلتے ہیں  اور انہیں فاتحین کہتے ہیں ۔فاتحین راہ خدا یعنی بند راہوں کو کھولنے والے۔ فاتحین  غلبہ کے لئے نہیں ہوتے بلکہ غلبے کے لئے پہلا قدم اٹھاتے ہیں  اور جو کامیابی کی طرف پہلا قدم اٹھاتے ہیں۔  
 علامہ جواد نقوی نے مزید کہا کہ آج 65 سال بعد جب ہم اس وطن عزیز میں راہ خدا کا مشاہدہ کرتے ہیں  تو ہمیں یہ راہیں بند نظر آتی ہیں ، یعنی 65 سال میں خدا کی راہوں کو بند کیا گیا ہے، دیواریں کھڑی گی گئی ہیں اور   ہر طرح سے رکا وٹیں حائل کی گئی ہیں۔ آج ہمیں ان بند راہوں کو کھولنا ہے ، حائل رکاوٹوں  کو ہٹانا ہے اور ان دیواروں کو گرانا ہے۔جاہلیت، خرافات، شیطانی نظام، شیطانی سیاست ، پیشہ وری  کی دیواریں حائل ہیں۔ دیواروں کے پیچھے دیواریں اور بڑی سخت  اور مظبوط دیواریں راہ خدا پر کھڑی کر دی گئی ہیں تاکہ عباد خدا و بندگان خدا ان راہوں پر نہ جا سکیں۔ جب تک یہ دیواریں نہیں گرینگی اسوقت تک ان دیواروں کے پیچھے جو لوگ اسیر ہیں وہ آزاد نہیں ہونگے۔ خدا وند تبارک و تعالی نے رسول اللہؐ کو مبعوث فرمایا اور مبعوث ہو کر  رسول اللہؐ نے وہ دیواریں گرائیں۔ اس کے لئے کہ صرف ایک مبعوث انسان ان دیواروں سے ٹکرا سکتا ہے ۔ یہ دیواریں عدالتی کیس کر کے اور مذاکرات کر کے نہیں گرائی جا سکتیں، بلکہ ان دیواروں سے ٹکرانا پڑتا ہے۔ مبعوث یعنی جو بھڑکا ہو ا ہو ، برانگیختہ کیا گیا ہو اور جس کو ابھارا گیا ہو  اور اٹھایا گیا ہو ۔ جس کو اتنا تیار کیا گیا ہو کہ اس کے جذبے، اسکے ولولے  اس حد تک جا پہنچیں کہ کوئی چیز اسکو روکنےپرقادر نہ ہو۔ نہ لالچ اسکو روک سکے ، نہ دھمکی اس کو روک سکے ، نہ اسکے خلاف سازشیں کی جا سکیں ، نہ فتنے و بہتان ا س کو روک سکیں ، نہ ملامتیں اس کو روک سکیں ۔ نہ اسکے خلاف کوئی متحدہ محاز ایسا ہو جو اسے روک سکے ، جیسے رسول اللہؐ کے خلاف سب کچھ کیا گیا مگر رسول اللہؐ   کو ایک قدم پر بھی  روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲