22 جون 2013 - 19:30
صالحی: جنیوا کانفرنس میں شرکت کریں گے

ایران کے وزیر خارجہ علی اکبرصالحی نے شام کے موضوع پر آئندہ ہونے والی بین الاقوامی جنیوا کانفرنس میں شرکت کے لیے ایران کی آمادگی کا اعلان کیا ہے.

ابنا: سنیچر کے روز تہران میں اپنے لبنانی ہم منصب عدنان منصور کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صالحی نے کہا کہ اگر مدعو کیا گیا تو یقینی طور پر ہم شام کے موضوع پر منعقد ہونے والی بین الاقوامی جنیوا کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ یاد رہے کہ ماسکو میں 7 مئی کو روس اور امریکہ نے شام کے بحران کا سیاسی حل نکالنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا.تاہم صالحی نے کہا کہ اگر کانفرنس کا نتیجہ دہشت گردوں کو مزید اسلحہ فراہم کرنے اور شام کے بنیادی ڈھانچے کی مزید تباہی کے طور پر سامنے آتا ہے تو ہم اس میں شرکت نہیں کریں گے۔ لبنان کے وزیر خارجہ نے بھی کہ جو ایرانی حکام کے ساتھ علاقائی اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے سنیچر کے روز تہران پہنچے ہیں، شام میں غیر ملکی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کی حمایت اور لبنان سمیت پورے خطے پر پڑنے والے اس کے اثرات کے متعلق خبردار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں اس بات کا پھر اعادہ کر رہا ہوں کہ شام میں مزید ہتھیاروں کی فراہمی سے اس ملک کے مفادات کے تحفظ میں کوئی مدد نہیں ملے گی، ہتھیاروں کی فراہمی کا مطلب ہے تشدد کو بڑھاوا دینا اور اس کا مطلب ہے شام اور اس کی سالمیت کی تباہی  کہ جو خطے کی تباہی کا بھی باعث ہوگی۔ ایران اور لبنان کے وزراء خارجہ نے شام میں غیر ملکی مداخلت کو مسترد کر دیا اور بحران کے حل کے لئے بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔ غور طلب ہے کہ مارچ 2011 سے شروع ہونے والے بحران میں اب تک شام کے فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد سمیت 93 ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔......./169