ابنا: تازہ ترین خبر کے مطابق اس ملک کے دارالحکومت بغداد کے شمالی علاقے میں مسلمانوں کے ایک مذہبی مقام میں خود کش حملہ ہوا ہے جس میں اب تک کی خبروں کے مطابق پندرہ افراد جاں بحق جبکہ اٹھائيس زخمی ہوچکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں اکثر افراد کا تعلق امام صادق یونیورسٹی سے تھا۔ مغربی بغداد کے منصور علاقے میں ایک بم دھماکہ ہوا ہے جس میں پانچ عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔ عراق میں کل ہونے والے دہشتگردانہ حملوں میں کم از کم بارہ افراد جاں بحق اور چالیس زخمی ہوگۓ تھے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق عراق میں مئی کے مہینے میں شدت پسندوں کے حملوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
عراق میں جاری بدامنی کے واقعات پر نظر ڈالیں تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہےکہ بدامنی کے یہ واقعات ایک منظم سازش کے تحت کۓ جارہے ہیں کیونکہ ایک سوچے سمجھے منصوبےکے تحت کبھی شیعہ مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو حملے کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی سنی مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو۔ جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ عراق میں بدامنی پھیلانے والے اس ملک میں اتحاد بین المسلمین کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے ہیں۔
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ترکی، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ساتھ خلیج فارس کے بعض عرب ممالک منجملہ سعودی عرب اور قطر، بعث پارٹی کے عناصر اور اسی طرح دہشت گردوں کی حمایت کر کے عراق میں بد امنی پھیلانے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
عراق میں کۓ جانے والے دہشتگردانہ واقعات کا مقصد عراقی عوام کے درمیاں فرقہ وارانہ فسادات کروانا ہے۔ عراق میں بھی ہرملک کی طرح مختلف قومیں اور فرقے بستے ہیں ان میں شیعہ سنی، ترکمن ، کرد اور عیسائي شامل ہیں اور صدیوں سے نہایت ہی پرامن زندگي گذارتے آرہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہےکہ عراق کے سیاسی عمل کے مخالف بیرونی حلقے عراق میں اس پرامن فضا کو خراب کرکے اسلامی فرقوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنا چاہتےہیں اور فرقہ وارانہ فسادات کرواکر بھائي سے بھائي کا گلا کٹوانے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔ دہشتگردوں نے نہ صرف اھل سنت کے زیارتی اور مقدس مقامات، مسجدوں اور بازاروں کو نشانہ بنایا ہے بلکہ اھل تشیع کی زیارتگاہوں، اور دیگر مقدس مقامات کو تخریبی کاری کا بھی نشانہ بنایا ہے۔ عراق میں جاری دہشتگردی کو بیرونی حمایت حاصل ہے اور اس دہشتگردی کا مقصد موجودہ عوامی حکومت کو نقصان پہنچانا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ عراق میں جاری دہشتگردی میں بیرونی حلقوں بالخصوص نوری المالکی اور شیعہ اکثریت کے مخالف بعض عرب ممالک کے کردار کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ علاقے میں سعودی عرب اور قطر دو ایسے ملک ہیں جو پرامن اور ترقی کرتا ہوا عراق نہیں دیکھ سکتے ان ملکوں نے عراق میں دہشتگرد گروہوں بالخصوص القاعدہ اور سابق خونخوار بعث پارٹی کے باقی بچے عناصر کو منظم کرکے عراق میں خون خرابے کے انتظامات مکمل کردئے ہیں۔ عراق میں گرفتار کئے گئے دسیوں دہشتگردوں کا تعلق سعودی عرب سے ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ سعودی عرب عراق کے داخلی معاملات میں مداخلت کرکے دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے۔ عراق کے سلسلے میں گذشتہ ایک برس میں سعودی عرب اور قطر کی کارکردگي سے پتہ چلتا ہےکہ یہ ممالک عراق کو نئے نئے بحرانوں سے دوچار کرکے حکومت کو سرنگون کرنا چاہتے ہیں۔ ان تمام سازشوں کے باوجود عراقی حکومت نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ملک میں ہر قیمت پر فرقہ وارانہ جنگ اور مذہبی فتنوں کا سد باب کرنا چاہتی ہے ۔ عراقی حکومت اور وزیر اعظم قومی سطح پر مفاہمت چاہتے ہیں اور ملک دہشتگردی کے عناصر کی بیخ کنی کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ عراقی وزیر اعظم نوری مالکی نے کچھ عرصہ قبل عوام سے اپیل تھی کہ وہ شیعہ سنی مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے پر مبنی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے مل کر نماز ادا کریں۔ عراقی عوام نے دارالحکومت بغداد میں پہلی بار مل کر نماز جمعہ ادا کر کے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ عراق میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کی پہلی مشترکہ نماز جمعہ میں علماء اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آج ایک بار پھر عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہی بم دھماکہ ہوا ہے جس کا مقصد شیعہ سنی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ لیکن عراقی حکام اور عوام کی ہوشیاری اور بیداری کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دشمنوں کی یہ سازش بھی ناکام ہوگي کیونکہ عراق کے حکام اور عوام اتحاد کے ذریعےاپنے ملک کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔
اور ان کا اتحاد دشمنوں کے تمام مذموم عزائم کو خاک میں ملا دے گا۔پاکستان کے ممتاز دانشور پروفیسر قندیل عباس کا انٹرویو سننے کے لۓ نیچے کلک کیجۓ۔
.....
/169